بھارتی گاؤں جہاں بھائی کی جگہ بہن دلہا بنتی ہے

بھارتی ریاست گجرات کے تین گاؤں ایسے ہیں جہاں دولہا خود اپنی دلہن نہیں لاتا بلکہ بہن بھائی کی جگہ دولہا بن کراور تمام رسومات ادا کرکے دلہن کو گھر لاتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے تین گاؤں ایسے ہیں جہاں دولہا خود اپنی دلہن نہیں لاتا بلکہ بہن بھائی کی جگہ دولہا بن کراور تمام رسومات ادا کرکے دلہن کو گھر لاتی ہے۔  اطلاعات کے بھارتی ریاست گجرات کے شہر چھوٹا اُدے پور کے گاؤں (سرکھڈا، سانڈا اور امبل) میں رہنے والے قبائیلی دلچسپ اور غیر معمولی روایت کے مطابق شادی کرتے ہیں۔ یہاں ہونے والی شادیوں میں دولہا خود اپنی شادی پر موجود نہیں ہوتا بلکہ اُس کی بہن دولہا بن کر دلہن کو لاتی ہے۔

بھارت کے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اُدے پور کے ان تینوں گاؤں میں ایسا ہوتا ہے کہ دولہا اپنی شادی کے وقت گھر پر ہی موجود ہوتا ہے جبکہ لڑکےکی جگہ اُس کی غیر شادی شدہ بہن یا خاندان کی کوئی غیر شادی شدہ لڑکی دولہا بنتی ہے اورنہ صرف دولہا بنتی ہے بلکہ ایک دولہے کی طرح شادی کی تمام رسومات ادا کرتی ہے۔

گاؤں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں مردوں کو دیوتا تصور کیا جاتا ہے، اُن کو عزت دینے کے لیے وہ ایساکرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں ایسا کرنے سے لڑکا تمام تر پریشانیوں اور تکلیفوں سےبھی دور رہتا ہے۔

گاؤں کے رہائشی ایک شخص نے بتایا کہ لڑکے اپنی شادی کے دن بہترین شیروانی زیب تن کرتے ہیں، سر پر شاندار پگڑی سجاتے ہیں اور ساتھ ہی تلواربھی اُن کے ہاتھ میں موجود ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود اپنی روایات کی پیروی کرتے ہوئے وہ شادی کی تقریب میں شرکت نہیں کرتے بلکہ اپنی والدہ کے ہمراہ گھر میں بیٹھ کر  دلہن کا انتظار کرتے ہیں۔

News Code 1890878

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 0 =