خلیج فارس میں امن و سلامتی  کا ایرانی منصوبہ/ عدم جارحیت کے معاہدے کی پیشکش

اسلامی جمہوریہ ایران نےغیر علاقائی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر خلیج فارس میں امن و سلامتی کے سلسلے میں علاقائی ممالک کے باہمی تعاون ، شراکت سے عدم جارحیت کے معاہدے کی پیشکش کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نےغیر علاقائی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر خلیج فارس میں امن و سلامتی کے سلسلے میں علاقائی ممالک کے باہمی تعاون ، شراکت سے عدم جارحیت کے معاہدے کی پیشکش کی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے 26 مئی کو عراق کے دورے کے دوران عراقی حکام کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کے دوران خلیج فارس کے ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس میں غیر علاقائی طاقتیں عدم استحکام پیدا کررہی ہیں لہذا علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ خلیج فارس میں امن و استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں باہمی تعاون اور شراکت کے ساتھ خود اقدام کریں اور آپس میں عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کریں اور اس معاہدے کے ذریعہ غیر علاقائی طاقتوں کی طرف سے پیدا کئے گئے مصنوعی شبہات ، خدشات اور خطرات دور ہوجائیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات برقرار کرنے کا خواہاں ہے اور ایران کا کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہےاور نہ ہی ماضی میں ایران نے کوئی ایسا اقدام کیا ہے۔ ایرانی قوم امن پسند قوم ہے جس کی تہذیب اور تمدن کا علاقائی اور عالمی سطح پر شہرہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے عدم جارحیت معاہدے کی پیشکش کو اہم اور تعمیری قراردیا جارہا ہے اس معاہدے کی روشنی میں غیر علاقائی طاقتوں کی طرف سے پیدا کئے گئے فرضی شبہات، خدشات اور خطرات دور ہوجائیں گے اور غیر علاقائی طاقتوں کی خلیج فارس میں موجودگی کا جواز بھی ختم ہوجائےگا ۔خلیج فارس کی سکیورٹی اور سلامتی کے انتظامی امور خود علاقائی ممالک کے ہاتھ میں آجائیں گے۔

اس معاہدے کی روشنی میں خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک  کی سلامتی محقق ہوجائے گی اور خلیج فارس کا انتظام و انصرام عراق، ایران اور خلیج فارس تعاون کونسل کےرکن ممالک کے  ہاتھ میں آ جائے گا۔ اور ان تین علاقائی طاقتوں کو عالمی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی توانائی اور قدرت کو مضبوط بنانا پڑےگا۔

اس معاہدے کی روشنی میں علاقائی اختلافات حل ہوجائیں گے اور امریکہ کا علاقائی ممالک سے سؤ استفادہ کرنے کا بہانہ بھی ختم ہوجائےگا ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان مزید اختلاف پیدا کرنے کی امریکی سازش بھی ناکام ہوجائےگی۔ اگر علاقائی سطح پر عدم جارحیت کا معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے تو اس سے خطے میں کشیدگی اور تناؤ کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کا مامحول پیدا ہوجائےگا۔  اسلامی تجزیہ نگار اور دانشور اسلامی جمہوریہ ایران کی اس تجویزاور پیشکش کو مثبت، تعمیری اور علاقائی ممالک کے مفاد میں قراردے رہے ہیں۔

News Code 1890869

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 3 =