اگر 2000 میں کامیابی نہ ملتی تو ٹرمپ جنوب لبنان کو بھی اسرائیل کے حوالے کردیتا

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے سن 2000 میں حزب اللہ کی اسرائیل پر فتح اور جنوب لبنان کی آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ اگر سن 2000 میں کامیابی نہ ملتی تو آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ جولان کی طرح جنوب لبنان کو بھی اسرائیل کے حوالے کردیتا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے سن 2000 میں حزب اللہ کی اسرائیل پر فتح اور جنوب لبنان کی آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ اگر سن 2000 میں کامیابی نہ ملتی تو آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ جولان کی طرح جنوب لبنان کو بھی اسرائیل کے حوالے کردیتا۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ صہیونیوں کے لوث سے جنوب لبنان کی آزادی اور اس عید کی مناسبت سے میں لبنانی قوم اور حزب اللہ لبنان کے غیور اور بہادر جوانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے عاشورا اسکوائر پر یوم قدس کی عظیم ریلی میں عوام کی بھر پور شرکت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بعض خائن عرب ممالک کے ساتھ ملکر صدی معاملے کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس کے پہلے مرحلے کا بحرین سے آغاز ہوگیا ہے۔ لہذا صدی معاملے کو ناکام بنانے کے سلسلے میں آج مسلمانوں کے دوش پر سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس سال یوم قدس کی ریلیوں میں مسلمانوں کی بھر پور شرکت بہت ضروری ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے بحرینی حکومت کے اسلام دشمن اقدام کی مذمت اور بحرینی عوام اور علماء کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب تک خطے میں امریکی ایجنٹ بر سر اقتدار رہیں گے خطے میں امن و استحکام پیدا نہیں وگا اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف امریکی سازشوں کا سلسلہ جاری رہےگا۔

انھوں نے کہا کہ اگر لبنانی عوام نے سن 2000 میں قربانی پیش نہ کی ہوتی تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج جنوب لبنان کو بھی اسرائیل کے حوالے کردیتے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ مسلمانوں کو خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی عرب ممالک کی سازشوں کے بارے میں آگاہ اور ہوشیار رہنا چاہیے۔

News Code 1890824

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 0 =