بابری مسجد تنازع حل کرنےکی مدت میں 3 ماہ کی توسیع

بھارتی سپریم کورٹ نے 16 صدی سے ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے ایک دہائی سے جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے بنائے گئے ثالثی پینل کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کردی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 16 صدی سے ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے ایک دہائی سے جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے بنائے گئے ثالثی پینل کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کردی۔  ثالثی پینل کو 15 اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے چیف جسٹس رنجان گوگوئی کا کہنا تھا کہ ملک کے کئی حصوں میں فسادات کا سبب بننے کی تاریخ کے ساتھ بھارت کے سب سے بڑے مذہبی تنازع کے پر امن حل کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ثالثی کمیٹی کی جانب سے مدت میں 15 اگست تک توسیع کی درخواست کی گئی تھی۔خیال رہے کہ ثالثی پینل مارچ میں قائم کیا گیا تھا جسے ابتدائی طور پر 8 ہفتوں کی حتمی مدت دی گئی تھی۔

واضح  رہے کہ 1992 میں انتہا پسند ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات نے جنم لیا اور 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اس کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔

News Code 1890444

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =