سکیورٹی کونسل اور یورپی ممالک کو بہت بڑی آزمائش کا سامنا

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہونے کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل اور یورپی ممالک کو بہت بڑی آزمائش کا سامنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ حجۃ الاسلام حاج علی اکبری کی امامت میں منعقد ہوئی ، جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ خطیب جمعہ نے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہونے کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل اور یورپی ممالک کو بہت بڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ خطیب جمعہ نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کی طرف سے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی شق 26 اور 36 کی روشنی میں ایٹمی معاہدے سے خارج ہونے کے اقدام کو قانونی اور ایٹمی معاہدے کی روح کے مطابق قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران مشترکہ ایٹمی معاہدے سے گذشتہ سال امریکہ کے خارج ہونے کے بعد  یہ قدم اٹھا سکتا تھا لیکن ایران نے ایسا نہیں کیا ،  امریکہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں اور امریکہ کا یہ اقدام عالمی قوانین اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روح کے بالکل خلاف ہے اور امریکہ کے اس غیر قانونی اقدام کا جواب ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی اور قانون کے مطابق دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے بیان کو ایرانی قوم کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

حاج علی اکبری نے کہا کہ ہمارے دیر ہنگام اقدام پر بھی یورپی ممالک کی چیخ نکل گئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے درست قدم اٹھایا ہے جس کی بنا پر دشمنوں کو غصہ آگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران اقتصادی محاصرے میں ہے دشمن ہمارے عوام کے لئے اقتصادی مشکلات پیدا کررہا ہے البتہ ہم شعب ابی طالب (ع) کے شرائط میں نہیں بلکہ جنگ احزاب کے شرائط میں ہیں کیونکہ ہم دشمن کی ہر حماقت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے آمادہ ہیں۔

خطیب جمعہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رفتار کی وجہ سے امریکہ کا دنیا میں اعتبار ختم ہوگیا ہے اور امریکی پابندیاں صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ امریکہ نے کئی دوسرے ممالک کے خلاف بھی اقتصادی محاذ کھول رکھا ہے۔

حاج علی اکبری نے کہا کہ قدرت کا پلڑا آج اسلامی مزاحمتی تنظیموں اور ایران کے حق میں ہے۔ غزہ میں امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو شکست کا سامنا ہے آج فلسطینی اسرائیلی فوجیوں پر پتھر نہيں پھینک رہے بلکہ راکٹ داغ رہے ہیں، ونزوئلا میں امریکی کودتا کی کوشش ناکام ہوگئی ، کیوبا کے خلاف امریکی پالیسی شکست سے دوچار ہے۔ چین اور روس بھی امریکی اقتصادی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔

فلسطینی میزائلوں نے اسرائیلی آئرن ڈوم کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔ فلسطینیوں نے صرف 48 گھنٹوں میں 700 میزائل مقبوضہ علاقوں میں فائر کرکے اسرائیل کو لرزہ بر اندام کردیا ہے۔ خطے میں امریکہ ، اسرائیل اور ان اتحادی عرب ایجنٹوں کو شکست اور ناکامی کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایرانی قوم اقتصادی محاذ پر بھی امریکہ کو شکست اور ناکامی سے دوچار کردےگی۔

News Code 1890414

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =