پیغبر اسلام (ص) : امام مہدی (عج) کا ظہورآخری زمانہ میں ہوگا

نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام مہدی (عج) کے بارے میں بیشمار پیشینگوئیاں فرمائی ہیں کہ آامام مہدی (عج) آنحضور(ص) کی عترت اورحضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیھا کی اولاد سے ہوں گے۔ (4) آنحضور (ص) نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی (عج) کا ظہورآخری زمانہ میں ہوگا ۔اورحضرت عیسی ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودہویں اورسلسلہ امامت علویہ کی بارہویں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس خاتون ہیں۔  آپ اپنے آباء و  اجدادکی طرح امام منصوص ،معصوم ،اعلم زمانہ اورافضل کا ئنات ہیں ۔آپ بچپن ہی میں علم وحکمت سے اعلی درجات پر فائز تھے۔ (1) آپ کو پانچ سال کی عمرمیں ویسی ہی حکمت دے دی گئی تھی ،جیسی حضرت یحیی (ع) کو ملی تھی اورآپ بطن مادرمیں اسی طرح امام قراردئیے گئے ،جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرارپائے تھے۔ (2) آپ انبیاء سے بہترہیں ۔(3) حضرت امام مہدی کے متعلق نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیشمار پیشینگوئیاں فرمائی ہیں اوراس کی وضاحت کی ہے کہ آپ حضور(ص) کی عترت اورحضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیھا کی اولاد سے ہوں گے۔ (4) آپ نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی (عج) کا ظہورآخرزمانہ میں ہوگا ۔اورحضرت عیسی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ (5) آنحضور (ص) نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی (عج) میرے خلیفہ کی حیثیت سے ظہورکریں گے اور یختم الدین بہ کما فتح بنا جس طرح میرے ذریعہ سے دین اسلام کا آغاز ہوا ۔ اسی طرح ان کے ذریعہ سے مہراختتام لگادی جائےگی ۔ (6) آنحضور (ص) نے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ امام مہدی (ع) کا اصل نام میرے نام کی طرح محمد اورکنیت میری کنیت کی طرح ابوالقاسم ہوگی وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔ ‌(7) ظہورکے بعد ان کی فوری طور پر بیعت کرنی چاہیے کیونکہ وہ خداکے خلیفہ ہوں گے ۔ (8)

مؤرخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے جیسا کہ (9) بعض علماٴ کا کہنا ہے کہ ولادت کا سن ۲۵۶ ھ اور ما دہ ٴ تاریخ نور ہے یعنی آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظھور وشہود میں تشریف لائے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1: (صواعق محرقہ ۲۴۱ )

2: ۔(کشف الغمہ ص ۱۳۰ )

3: (اسعاف الراغبین ص ۱۲۸)

4: جامع صغیرسیوطی ص ۱۶۰ طبع مصر و مسند احمدبن حنبل جلد ۱ ص ۸۴ طبع مصروکنوزالحقائق ص ۱۲۲ ومستدرک جلد ۴ ص ۵۲۰ ومشکوة شریف )

5: ۔(ملاحظہ ہو صحیح بخاری پ ۱۴ ص ۳۹۹ وصحیح مسلم جلد ۲ ص ۹۵ صحیح ترمذی ص ۲۷۰ وصحیح ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۱۰ وصحیح ابن ماجہ ص ۳۴ وص ۳۰۹ وجامع صغیرص ۱۳۴ وکنوزالحقائق ص ۹۰)

6: (ملاحظہ ہوکنوزالحقائق ص ۲۰۹)

7: (ملاحظہ ہوکنوزالحقائق ص ۲۰۹)

8: (سنن ابن ماجہ اردوص ۲۶۱ طبع کراچی ۱۳۷۷ ھج) ۔

9: (جیساکہ وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن الوردی ،ینابع المودة،تاریخ کامل طبری ،کشف الغمہ ،جلاٴالعیون ،اصول کافی ، نور الا بصار ، ارشاد ، جامع عباسی ، اعلام الوری ، اور انوار الحسینہ وغیرہ میں موجود ہے۔ )

News Code 1889872

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 14 =