ترکی نے خاشقجی کے قتل میں ملوث متحدہ عرب امارات کے دو جاسوسوں کو گرفتار کرلیا

ترکی نے متحدہ عرب امارات کے لیے جاسوسی کرنے والے دوعرب جاسوسوں کو گرفتار کرکے سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ ترک سکیورٹی فورسز کئی ماہ سے ان دو عرب جاسوسوں کی نگرانی کررہی تھیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے آناتولی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی نے متحدہ عرب امارات کے لیے جاسوسی کرنے والے دوعرب جاسوسوں کو گرفتار کرکے سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ ترک سکیورٹی فورسز کئی ماہ سے ان دو عرب جاسوسوں کی نگرانی کررہی تھیں۔  ترکی کی سرکاری ایجنسی آناتولی کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے دو عرب جاسوسوں کوگرفتار کرلیا ہے اور ان سے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔رپورٹ کے مطابق دونوں جاسوسوں کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے جن  کو استنبول میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ترک ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس اور ایم آئی ٹی انٹیلی جنس سروس نے مذکورہ دونوں افراد کو رواں ہفتے کے شروع میں گرفتار کیا تھا۔ ترک ذرائع کے مطابق  گرفتار افراد کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے جو سعودی صحافی قتل کیس کے حوالے سے زیر نگرانی تھے۔ زیر حراست دونوں جاسوسوں کے قبضے سے کمپیوٹر برآمد ہوئے ہیں, جنھیں خفیہ مقام میں چھپاکر رکھا گیا تھا۔ ترک حکام نے مشتبہ جاسوسوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے انھے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو اکتوبر 2018 میں استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں بہیمانہ اور مجرمانہ طور پرقتل کیا گیا تھا جس کے بارے میں سعودی حکام نے شروع میں لاتعلقی کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں سعودی شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کی تھی۔

سعودی عرب میں اس حوالے سے رواں سال کے اوائل میں 11 افراد کے خلاف ٹرائل شروع کیا گیا تھا البتہ قاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد کے باوجود تاحال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور اسے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

امریکی سی آئی اے نے اپنی تحقیقات میں کہا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے براہ راست احکامات جاری کیے تھے لیکن وائٹ ہاؤس نے سعودی عرب کی جانب سے اس رپورٹ کو مسترد کرنے پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔

جمال خاشقجی کے قتل سے پوری دنیا میں سعودی عرب کے حکمرانوں خاص کر ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

ترکی نے جمال خاشقجی کے قتل کا مقدمہ ترکی میں چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب سے کہا تھا کہ واقعہ ان کی سرزمین میں پیش آیا ہے اس لیے ٹرائل بھی یہی پر ہوگا لیکن سعودی عرب کی جانب سے اس مطالبے کو رد کردیا گیا تھا۔

News Code 1889848

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =