نیوزی لینڈ میں فوجی افسر پرقابل اعتراض ویڈیو بنانے پر فرد جرم عائد

نیوزی لینڈ کی عدالت نے ملک کے اعلیٰ فوجی افسر کو سفارتخانے کے باتھ روم میں خفیہ کیمرا نصب کرکے لوگوں کی قابل اعتراض ریکارڈنگ کرنے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نیوزی لینڈ کی عدالت نے ملک کے اعلیٰ فوجی افسر کو سفارتخانے کے باتھ روم میں خفیہ کیمرا نصب کرکے لوگوں کی قابل اعتراض ریکارڈنگ کرنے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ 59 سالہ فوجی افسر پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکہ میں موجود نیوزی لینڈ کے سفارتخانے کے باتھ روم میں خفیہ کیمرا نصب کرکے لوگوں کی قابل اعتراض ریکارڈنگ کی۔فوجی افسر کیٹنگ الفریڈ واشنگٹن ڈی سی میں موجود نیوزی لینڈ کے سفارتخانے میں ملٹری اتاشی تھے۔ابتدائی طور پر 2017 میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کیٹنگ الفریڈ نے سفارتخانے کے باتھ روم میں انتہائی چھوٹا خفیہ کیمرا نصب کیا اور بعد ازاں ان کے خلاف مقدمے کا آغاز کیا گیا تھا۔رواں برس کے آغاز میں ہی کیٹنگ الفریڈ کے خلاف ٹرائل کا آغاز کیا گیا تھا اور رواں ماہ اپریل کے آغاز میں ہی ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکا کردیا تھا۔

News Code 1889811

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =