پاکستانی پولیس نے طالبان کے بانی ملا سمیع الحق کا قتل اندھا قراردیدیا

پاکستان جمعیت علمائے اسلام(س) کے مقتول سربراہ مولانا سمیع الحق قتل کیس کو تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے اندھا قتل قرار دے کر داخل دفتر کر دیا ہے ملا سمیع الحق طالبان کے بانی رہنما تھے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان جمعیت علمائے اسلام(س) کے مقتول سربراہ مولانا سمیع الحق قتل کیس کو تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے اندھا قتل قرار دے کر داخل دفتر کر دیا ہے ملا سمیع الحق طالبان کے بانی رہنما تھے۔تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے مقتول سربراہ مولانا سمیع الحق قتل کیس کو اندھا قتل قرار دے کر داخل دفتر کر دیا ہے۔ اس کیس میں 5ماہ سے پولیس کو کوئی کامیابی نہیں مل سکی،گزشتہ ماہ پولیس نے مقتول کے سیکریٹری احمد شاہ کو گرفتار کیا تھا مگر جسمانی ریمانڈ کے دوران کچھ بھی برآمد نہیں ہوسکا جس پر عدالت نے گرفتار ملزم کو ڈسچارج کر دیا۔پولیس نے اس اندھے قتل کیس میں16 مختلف افراد کے مختلف ٹیسٹ فرانزک لیبارٹری بھجوائے تھے مگر ان سب کی رپورٹیں بھی منفی قرار پائی ہیں جس کے باعث یہ قتل کیس داخل دفتر کر دیا گیا ہے، تاہم اعلیٰ سطحی پولیس ٹیم اس کی انکوائری جاری رکھے گی، نامعلوم ملزمان نے2نومبر2018 کو مولانا سمیع الحق کو ان کی راولپنڈی کی رہائش گاہ میں بری طرح قتل کر دیا تھا۔

News Code 1889765

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 7 =