عرب ممالک کے اکثرحکمراں کفار کے مطیع اور فرمانبردار/یمن پر بمباری قرآن سے دوری کا نتیجہ

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں قرآن کریم کے بین الاقوامی مقابلوں کے شرکاء کے شاندار اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: آج بہت سے عرب ممالک کے سربراہان اور حکمراں کفار کے مطیع اور فرمانبردارہیں، کیونکہ انھوں نے اشداء علی الکفار کو فراموش کردیا جبکہ یمن پر بمباری بھی قرآن سے دوری اور فراموشی کا نتیجہ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں قرآن کریم کے بین الاقوامی مقابلوں کے شرکاء کے شاندار اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: آج بہت سے عرب ممالک کے سربراہان اور حکمراں کفار کے مطیع اور فرمانبردارہیں، کیونکہ انھوں نے اشداء علی الکفار کو فراموش کردیا اور یمن پر بمباری بھی قرآن سے دوری اور فراموشی کا نتیجہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآن کریم کے بین الاقوامی مقابلوں کو بہت بڑی نعمت قراردیتے ہوئے فرمایا: قرآن مجید کے مقابلوں میں دنیا کے تمام مسلمان قرآن کے محور پر جمع ہوتے ہیں اور ہمیں ایسے اجمتاعات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہمیں قرآن مجید کی قدر و قیمت کو پہچاننا چاہیے ۔ قرآن صرف تلاوت کے لئے نہیں ، قرآن کی تلاوت در حقیقت قرآن مجید کو سمجھنے کا مقدمہ اور پیش خیمہ ہے اور اچھی صوت میں قرآن مجید کی تلاوت ہمیں قرآن کے معانی اور مفاہیم تک پہنچنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: قرآن بشریت کی سعادت ، عزت اور عظمت کی کتاب ہے ۔ قرآن میں صرف اخروی سعادت نہیں بلکہ دنیاوی سعادت بھی موجود ہے۔ تمام قومیں قرآن مجید کے ذریعہ سعادت اور خوشبختی تک پہنچ سکتی ہیں کیونکہ قرآن مجید میں دنیا اور آخرت دونوں کی سعادت موجود ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دنیا اور اخروی سعادت حاصل کرنے کے لئے قرآن مجید کے احکام پر عمل ضروری ہے ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ قرآن مجید ہمیں کیا  حکم دے رہا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: قرآن مجید پیغمبر اسلام کے پیروکاروں کو " أَشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَهُم " کا حکم دیتا ہے لیکن بعض مسلمانوں نے اشداء علی الکفار کو فراموش کرکے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کرلی ، جو آشکارا طور پر فلسطینی مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں اور بعض نے رحماء بینھم کو فراموش کرکے مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف پھیلانا شروع کردیا اور دین و جہاد کے نام پر شام، عراق، یمن ، لیبیا اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کا خون بہانا مباح قراردیدیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: آج بہت سے عرب ممالک کے سربراہان قرآنی احکام ، آیات اور دستورات کو فراموش کرکے کفار کی اطاعت اور فرمانبرداری کررہے ہیں اور کفار کے ساتھ ملکر مسلمان ممالک میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یمن میں نہتے عرب مسلمانوں پر بمباری کرنے والا کون ہے؟ کافر ہے، نہیں ، بلکہ بظاہر ایک مسلمان ملک ہے جو مسلمانوں پر رحم نہیں کرتا اور کفار کے راستے پر گامزن ہے۔ بہت سے عرب ممالک کے رہنماؤں کا  قرآن مجید پر کوئی اعتقاد اور ایمان نہیں ،  اور وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے دستورات پر عمل کرکے مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔

News Code 1889726

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =