کوئٹہ میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف تیسرے روز بھی دھرنا جاری

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں دھماکے اور اس میں 20 شیعہ مسلمانوں کے شہید ہونے کے بعد شیعہ مسلمانوں کا دھرنا تیسرے روز میں داخل ہو گیا، حملے کی ذمہ داری وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں دھماکے اور اس میں 20 شیعہ مسلمانوں کے شہید ہونے کے بعد شیعہ مسلمانوں کا دھرنا تیسرے روز میں داخل ہو گیا، حملے کی ذمہ داری وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔ بلوچستان اور کوئٹہ میں شدید بارشوں کے باوجود شیعہ ہزارہ برادری کے افراد دھرنا ختم کرنے پر راضی نہیں اور متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت، نیشنل ایکشن پلان پر موثر طریقے سے عملدرآمد اوروہابی  شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائے۔مظاہرین اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو مرکزی ہائی وے سے ملانے والے مغربی بائی پاس کو ٹائر جلا کر اور رکاوٹیں لگا کر بند کیا اور علاقے میں کیمپس لگا دیئے ہیں۔ ہزار گنجی میں جمعہ کو ہونے والے داعش دہشت گرد کےخود کش دھماکے میں ہزارہ برادری کے 20 افراد شہید اور 48 زخمی ہوئے تھے اور داعش سے منسلک تحریک طالبان پاکستان کے قاری حسین گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

News Code 1889696

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =