اردوغان کو استنبول اور انقرہ میں تاریخی شکست کا سامنا

ترکی میں بلدیاتی انتخابات میں صدر اردوغان کی حکمراں جماعت کو استنبول اور انقرہ میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں حکمراں جماعت کو کامیابی ملی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے آناتولی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی میں بلدیاتی انتخابات میں صدر اردوغان کی حکمراں جماعت کو استنبول اور انقرہ میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں حکمراں جماعت کو کامیابی ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوغان کی جماعت نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی تاہم دو بڑے شہروں انقرہ اور استنبول میں اسے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا، یہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں پہلی مرتبہ ہے کہ ان دونوں شہروں میں حکمراں جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، حکمراں جماعت نے ان دونوں شہروں کے نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے، حکمراں جماعت کے مطابق دونوں شہروں میں دسیوں ہزاروں جعلی ووٹ ڈالے گئے، سپریم الیکشن بورڈ کے چیئرمین کے مطابق استنبول میں سابق وزیراعظم بن علی یلدرم نے 40 لاکھ 13 ہزار ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مخالف اپوزیشن کی جماعت سی ایچ پی کے امیدوار ایکرم امام اوغلو نے تقریباً 40 لاکھ 16 ہزار ووٹ حاصل کئے۔ اس سے قبل دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کیا تھا۔ اپوزیشن رہنما امام اوغلو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جلد سے جلد عوام کی خدمت شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم استنبول کی ضروریات پورا کرنے کیلئے تمام ملکی اداروں کیساتھ تعاون کے خواہاں

ہیں۔ ادھر دارالحکومت انقرہ میں اپوزیشن کی جانب سے میئر کے امیدوار منصور یواس نے 50.89 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ حکمراں جماعت کے امیدوار محمد اوزاسکی نے 47.06 فیصد ووٹ حاصل کئے، انقرہ میں 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اپنی غلطیوں کو درست کرنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔

News Code 1889351

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 10 =