ترکی میں صدراردوغان کی حکمراں جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں دھچکہ

ترکی پر 16 سال حکمرانی کرنے والے صدر رجب طیب اردوغان کی حکمراں جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں شدید دھچکہ لگا ہے ۔ دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں شکست کا خطرہ جبکہ اپوزیشن نے انقرہ میں میئرشپ جیتنے کا دعویٰ کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے آناتولی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی پر 16 سال حکمرانی کرنے والے صدر رجب طیب اردوغان کی حکمراں جماعت کو بلدیاتی الیکشن میں شدید دھچکہ لگا ہے ۔ دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں شکست کا خطرہ جبکہ اپوزیشن نے انقرہ میں میئرشپ جیتنے کا دعویٰ کردیا ہے۔ ترکی میں اتوار کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں ووٹرز نے کئی شہروں کے میئرز، میونسپل کونسل اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب کیا۔دارالحکومت انقرہ میں ننانوے فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کو سینتالیس کے مقابلے میں تقریباً اکیاون فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ استنبول جہاں صدر اردوان نے اپنے وفادار ساتھی سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو میدان میں اتارا ہے، حکمران جماعت 48اعشاریہ سات ووٹ کے ساتھ کامیابی کا دعویٰ کررہی ہے، اپوزیشن امیدوارجنہیں اڑتالیس اعشاریہ چھ پانچ فیصد ووٹ ملے وہ بھی فتح کا دعویٰ کررہےہیں۔ صدراردوغان نے انقرہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ استنبول میں میئر شپ نہ بھی ملی تو ڈسٹرکٹ کونسل پر انہی کا کنٹرول ہوگا۔اردوغان نے کہا کہ حکومت کی کچھ کمزوریاں ہیں تو انہیں دورکرنا ہمارا فرض ہے، کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقے میں کرد حمایت یافتہ ایچ ڈی پی جیت گئی ہے ۔اطلاعات کے مطابق صدر اردوغان کی حمایت میں کمی کی وجہ معاشی سست روی، بے روزگاری میں اضافہ اور مہنگائی بنی ہیں۔

News Code 1889321

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 4 =