ہندوستانی فورسز نے 1000 کشمیریوں کی بینائی چھین لی

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے صرف دو سال میں 1000 سے زائد کشمیری نوجوان، خواتین اور بزرگوں کی آنکھیں یا تو کلی طور پر بینائی سے محروم ہوگئیں یا بینائی محض 30 فیصد رہ گئی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے کشمیر میڈیا سروس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے صرف دو سال میں 1000 سے زائد کشمیری نوجوان، خواتین اور بزرگوں کی آنکھیں یا تو کلی طور پر بینائی سے محروم ہوگئیں یا بینائی محض 30 فیصد رہ گئی۔  اطلاعات کے مطابق میڈیکل کالج  کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن سے گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں 1 ہزار 66 کشمیریوں کی آنکھوں کو نقصان پہنچا۔ یہ افراد جولائی 2016 سے جنوری 2018 کے درمیان زخمی ہوئے۔میڈیکل کالج کے ریکارڈ کے مطابق 10 فیصد افراد مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوگئے اور آنکھ کی پتلی کی تبدیلی کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں۔ 85 فیصد افراد کی آنکھوں کی حالت گریڈ ڈی اور گریڈ ای کے مریضوں کی طرح ہوگئی ہے جس میں بینائی 70 سے 80 فیصد تک ختم ہوجاتی ہے۔تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ 11 فیصد افراد میں آنکھ کی پتلی تو محفوظ رہی ہے تاہم ان افراد کے پپوٹوں، پلکوں اور غلاف کو  نقصان پہنچا ہے۔ کچھ افراد کی آنکھ کے نہایت قریب زخم ہوگئے ہیں۔ ان افراد کی بینائی میں بھی 5 سے 10 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ پیلٹ گولیوں کا نشانہ بننے والوں میں 5 سال کے کم سن بچوں سے لیکر 60 سالہ بزرگ تک شامل ہیں۔

News Code 1889175

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =