برطانوی پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے بریگزٹ پر فیصلے کا اختیار سلب کرلیا

برطانوی پارلیمنٹ نے وزیراعظم تھریسامے سے بریگزٹ معاملات پر فیصلے کا اختیار چھین لیاہےجس کے بعد کلی اختیار پارلیمنٹ کے پاس منتقل ہوگیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے وزیراعظم تھریسامے سے بریگزٹ معاملات پر فیصلے کا اختیار چھین لیاہےجس کے بعد کلی اختیار پارلیمنٹ کے پاس منتقل ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے بریگزٹ معاملے پر کسی بھی قسم کے فیصلے کا اختیار اپنی وزیراعظم تھریسامے سے لیکر پارلیمنٹ کو منتقل کردیا۔ قرار داد کے حق میں 329 جب کہ مخالفت میں 302 ووٹ پڑے۔وزیراعظم تھریسامے کو یہ ناکامی اپنے ہی اراکین کی بغاوت کے باعث اُٹھانا پڑی، قرار داد سر اولیور لیٹوین نے پیش کی۔ یہ قرار داد لندن میں دس لاکھ شہریوں کے سڑکوں پر نکل آنے اور وزیراعظم تھریسامے کے خلاف مظاہروں کے بعد پیش کی گئی جس میں مظاہرین نے بریگزٹ کا فیصلہ عوام کو دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ برطانوی عوام نے گزشتہ برس ایک ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس پر بریگزٹ مخالف اراکین اور وزراء نے استعفیٰ بھی  دیا تھا اور تاحال یہ سیاسی بحران جاری ہے حالانکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ڈیڈ لائن بھی قریب پہنچ گئی ہے۔

News Code 1889173

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =