اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قرارداد کے بارے میں ایرانی انسانی حقوق کے مرکز کا اعلامیہ جاری

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی طرف سے ایران کے امور میں اپنے مبصر کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی منظوری کے بارے میں ایران کے انسانی حقوق کے مرکز نے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ جس میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے غیر جانبدار ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے انسانی حقوق کے مرکز کا اعلامیہ حسب ذیل ہے:

" بسم الله الرحمن الرحیم

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے گذشتہ ہفتہ جنیوا میں سویڈن کی تجویز کردہ قراردیداد کو منظور کیا جس میں اقوام متحدہ کے خصوصی مبصر کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئي ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کا اس افسوسناک اور غیر مناسب اقدام کے بارے میں مؤقف ماضی کی طرح اصولی، منطقی اور ٹھوس ہے۔

1: اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیا اور دنیا میں سب سے بڑی اور پیشرفتہ جمہوریت ہے اورایرانی قوم نے  انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد گذشتہ 4 دہائیوں میں اسلامی بنیاد پر زندگی بسر کرنے،  انتخابات اور جمہوریت کے شاندار نمونے پیش کئے ہیں۔

اسرائیل نواز مغربی سیاستدانوں کو دوسروں کے حقوق نظر انداز کرنے ، خود پسندی اور خود شیفتگی جیسے امور سے پرہیز کرنا چاہیے انھیں مستقبل میں اپنی منہ زور اور دھمکی آمیز پالیسیوں کو مجبور ہو کر ترک کرنا پڑےگا۔

2 : اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے خصوصی مبصر کا انتخاب سیاسی مکر و فریب پر مبنی ،غیر قانونی اور ناپسندیدہ اقدام ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیا اور عالم اسلام میں عظیم تحول کا سرچشمہ اور مظہر ہے۔ اقوام متحدہ کے مبصر کی رپورٹوں سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں شیطانی اہداف و مقاصد اور مکر و فریب پوشیدہ ہے۔

3 : اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے مبصر کی خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور ہائی کمشنر کے سامنے پیش کیا ہے اور اقوام متحدہ کے اعلی حکام کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مبصر اور رپورٹر کو ذرائع ابلاغ کی طرح ہنر نمائی نہیں کرنی چاہیے اور سیاسی شو نہیں دکھانا چاہیے بلکہ اپنی رپورٹ کو دائیں بائیں بھیجنے کے بجائے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔

مبصر کو منصفانہ ،صاف اور شفاف رپورٹ آمادہ کرنی چاہیے۔ مبصر کو دہشت گردوں ، اوباشوں اور بلوائیوں کی دی گئی اطلاعات پر عمل نہیں کرنا چاہیے اور غلط و نادرست اطلاعات پر رپورٹ مرتب نہیں کرنی چاہیے۔

مبصر کو حکومت چلانے کے بارے میں اظہار خیال نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی رپورٹ کی شفافیت پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

مبصر کو حکومت کے سرکاری نظریہ کو بھی اپنی رپورٹ میں شامل کرنا چاہیے اور یکطرفہ اطلاعات جمع کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

جو مبصر واشنگٹن، لندن، پیرس اور تل ابیب کی نمائندگی کرتے ہوں ان کا خود مفسد ہونا نمایاں ہے اور ایسے مبصرین کی رپورٹوں کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے۔

4 : قرارداد کی بانی مغربی حکومتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایرانی قوم ہمیشہ انسانی تہذیب اور تمدن کا گہوارہ رہی ہے اور مغربی حکومتیں  اپنی نسل پرستانہ ، وحشیانہ اور خونخوار پالیسیوں کی وجہ سے بدنام زمانہ ہیں اور انھیں کسی دوسرے ملک کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

5 : اسلامی جمہوریہ ایران کا انسانی حقوق کا مرکز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لئے آمادہ ہے۔ ایران خصوصی مبصر کی توسیع کی قرارداد کی مذمت کرتا ہے اور اسے غیر سنجیدہ اقدام قراردیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مبصر نے کئی جگہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے جس کے خلاف عدالتی کارروائی ایران کا بنیادی حق ہے۔ "

News Code 1889144

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 1 =