جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کے لیے گندہ پانی گولیوں سے 20 گنا زیادہ خطرناک

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں کم عمر بچوں کے لیے گندہ پانی گولیوں سے 20گنا زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں کم عمر بچوں کے لیے گندہ پانی گولیوں سے 20گنا زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یونیسیف کے ماہرین نے افغانستان، عراق، شام اور یمن سمیت 16جنگ زدہ ممالک میں بچوں کی اموات کی وجوہات کا تجزیہ کیا، جس میں معلوم ہوا کہ ان ممالک میں گولیوں اور بموں کا نشانہ بن کر جان سے جانے والے 5 سال سے کم عمر بچوں کی نسبت گندے پانی کے باعث بیماریوں میں مبتلا ہو کر مرنے والے بچوں کی تعداد 20گنا زیادہ تھی۔ نتائج میں معلوم ہوا ہے کہ ان جنگ زدہ 16ممالک میں ہر سال پانچ سال تک کی عمر کے 72ہزار بچے صاف پانی اور صحت و صفائی کی مناسب سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس گولیوں اور بموں سے سالانہ اوسطاً 3400 بچے مر رہے ہیں۔ اس حوالے سے یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فورکا کہنا ہے کہ ”یہ تحقیق پانی کے عالمی دن کے حوالے سے کی گئی جس میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ لوگوں کی صاف پانی تک رسائی کو انسانی حقوق کے زمرے میں خیال کیا جانا چاہیے۔ جنگ کے دوران جان بوجھ کر پانی اور صحت و صفائی سے متعلق عمارات اور منصوبوں پر حملے کرنا کم سن بچوں پر حملے کے مترادف ہوتا ہے۔

News Code 1889123

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 6 =