خفیہ دستاویزات لیک کرنے والی اہلکار کو دوبارہ جیل بھیج دیا گیا

امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات لیک کر کے وکی لیکس کو دینے کے الزام میں 3 سال قید کاٹنے والی خاتون چیلسی میننگ کو گرینڈ جیوری تحقیقات میں گواہی دینے سے انکار کرنے پر دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات لیک کر کے وکی لیکس کو دینے کے الزام میں 3 سال قید کاٹنے والی خاتون چیلسی میننگ کو گرینڈ جیوری تحقیقات میں گواہی دینے سے انکار کرنے پر دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔

ورجینیا کی وفاقی عدالت میں امریکی اٹارنی کے ترجمان کے مطابق، امریکا کے ڈسٹرک جج کلاڈ ہلٹن نے چیلسی میننگ کو سزا کے طور پر نہیں بلکہ خفیہ کیس میں گواہی کے لیے مجبور کرنے کے لیے قید کرنے کا حکم دیا۔ بیان کے مطابق جج کلاڈ ہلٹن نے کہا کہ چیلسی میننگ غیر معینہ مدت تک قید رہیں گی جب تک وہ خود ختم نہ ہوجائیں یا گرینڈ جیوری ختم نہ ہو جائے۔

دوسری جانب چیلسی میننگ کی حمایت کرنے والی تنظیم، اسپیرو پرجیکٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ چیلسی میننگ کو گواہی دینے سے انکار کرنے کی وجہ سے ریمانڈ پر وفاق کے حوالے کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 سالہ چیلسی میننگ نے 2010 میں وکی لیکس اور اس کے بانی جولین اسانج کے اقدامات کے حوالے سے جاری تحقیقات میں گواہی دینے سے انکار کردیا تھا جس پر انہیں رواں ہفتے توہین عدالت کی سزا سنائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ بریڈلے میننگ (خواجہ سرا) کو 2010 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت اس کا نام بریڈلے میننگ تھا تاہم بعد میں انہوں نے خود کو عورت کہنا شروع کردیا تھا اور اپنا نام بریڈلے سے چیلسی میننگ کرلیا تھا۔

News Code 1888713

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 4 =