یورپی یونین نے سعودی عرب کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز مسترد کردی

یورپی یونین نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام پر سعودی عرب کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز مسترد کردی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یورپی یونین نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام پر سعودی عرب کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز مسترد کردی۔

یورپی یونین ایگزیکٹوز کی جانب سے سعودی عرب کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی جسے یورپی یونین کی 28 ریاستوں نے مسترد کردیا۔ یہ فیصلہ سعودی عرب اور فہرست میں شامل دیگر ملکوں کے دباؤ پر کیا گیا.

یورپی یونین ریاستوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سلسلے میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کیونکہ یورپی کمیشن کی جانب سے ترتیب دی گئی فہرست شفاف طریقے سے نہیں بنائی گئی تھی جس کی وجہ سے یورپی یونین کے رکن ملکوں نے یہ فیصلہ لیا۔ اس فیصلے کے بعد یورپیئن کمیشن کو نئی فہرست بنانا ہوگی۔

اس فہرست کی یورپی یونین کمشنر انچارج ویرا جورووا نے کہاکہ مجھے مایوسی ہوئی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ میں ہمت نہیں ہاروں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل شفاف طریقے سے انجام دیا گیا تھا اور اس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کے یورپی یونین کے قوانین کی پیروی کی گئی تھی۔

یورپی یونین آفیشلز کا کہنا ہے کہ تیل کی برآمدات کرنے والا سعودی عرب یورپی یونین کے ممالک سے اسلحے اور دیگر تجارتی سامان کی اربوں ڈالر کی خرید و فروخت کرتا ہے اور اس نے ان تمام ملکوں کو معاہدے منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یورپی رہنماؤں کو خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ کمیشن کے فیصلے کو واپس کرائیں۔

یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ نے اس فہرست کو بلاک کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ اگر ہم اس فہرست پر سیاسی کھیل کھیلیں گے تو یورپی یونین اپنی ساکھ کھو دے گا۔

News Code 1888672

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 10 =