شام کے صدر بشار اسد کا دورہ تہران، شام میں امن و ثبات کا مظہر

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے عارضی خطیب نےشام کے صدر بشار اسد کے دورہ تہران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے صدر بشار اسد کا دورہ تہران شام میں امن و ثبات کا مظہر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی کی امامت میںم نعقد ہوئی ۔ جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ نماز جمعہ کے عارضی خطیب نےشام کے صدر بشار اسد کے دورہ تہران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے صدر بشار اسد کا دورہ تہران شام میں امن و ثبات کا مظہر ہے۔

نماز جمعہ کے عارضی خطیب نے دینی آثار کی برکت کے نتیجے اندرونی اور بیرونی دو انقلاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک انقلاب بیصرت اور آگاہی پر مشتمل تھا جس کے نتیجے میں شاہمی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ، عوام کی بصیرت اور آگاہی کی بدولت حق کی باطل پر فتح ہوگئی ۔ طاغوتی طاقتوں کا سایہ ایران سے ختم ہوگیا ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پہلا انقلاب ابدی اور دائمی ہوجائے تو ہمیں پھر دوسرے انقلاب کو دلوں میں پیدا کرنا ہوگا۔ دلوں کے انقلاب کی بدولبت ہمارا رابطہ اللہ تعالی سے قریب تر ہوتا جائےگا اور ہم اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور بھروسہ کے ذریعہ دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بناسکتے ہیں۔

آیت اللہ موووحدی کرمانی نے شام کے صدر بشار اسد کے دورہ تہران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بشار اسد کا دورہ ترہان اس بات کا مظہر ہے کہ شام میں امن و ثبات قائم ہوگيا ہے اور بشار اسد کے دورہ تہران کی وجہ سے دشمنوں کی بہت سی آرزوئیں خاک میں مل گئی ہیں ۔ تہران اور دمشق کے درمیان گہرے اور عمیق تعلقات ہیں۔ بشار اسد نے ایران کے ساتھ اسٹراٹیجک تعلقات کو پیسے سے عوض نہیں کیا۔

News Code 1888494

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =