ہنگری میں گرتی ہوئی شرح پیدائش کو بڑھانے کیلئے حکومت کا دلچسپ اعلان

ہنگری میں حکومت کے اعلان کے مطابق ہر وہ خاتون جو 4 بچوں کو جنم دے گی اسے عمر بھر کیلئے انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہنگری میں حکومت کے اعلان کے مطابق ہر وہ خاتون جو 4 بچوں کو جنم دے گی اسے عمر بھر کیلئے انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے اپنے سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران شرح پیدائش میں اضافے کیلئے سکیم کا اعلان کیا۔ گزشتہ برس اپریل میں مسلسل تیسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے والے وکٹر اوربان نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ہنگرین قوم کا بقاءہے۔ کار کیلئے سبسڈی اور زندگی بھر انکم ٹیکس سے استثنیٰ کے علاوہ چار بچوں کی ماں کیلئے ایک کروڑ فورنٹس (تقریباً 50 لاکھ روپے پاکستانی) کا قرض بھی کم شرح سود پر فراہم کیا جائے گا۔ یہ سکیم ان خواتین پر لاگو ہوگی جن کی عمر 40 سال سے کم ہو اور وہ پہلی بار شادی کے بندھن میں بندھ رہی ہوں۔ 2018 کے اعدادوشمار کے مطابق ہنگری کی آبادی 96 لاکھ 88 ہزار نفوس پر مشتمل تھی جو آج کم ہو کر 96 لاکھ 68 ہزار ہوچکی ہے۔ وسطی یورپ کے اس ملک کی آبادی تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے جس کی بڑی وجہ شرح پیدائش کا شرح اموات کے مقابلے میں کم ہونا ہے۔ 1985 میں ہنگری کی آبادی ایک کروڑ ساڑھے 5 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی لیکن اس کے بعد سے ہنگری کو مسلسل آبادی میں کمی کا سامنا ہے۔

News Code 1888072

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 7 =