الخلیل سے عالمی مبصرین کی بے دخلی اوسلو معاہدے کی خلاف ورزی ہے، ناروے

ناروے نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں امن فوج کے دستے اور مبصرین کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اعلان پر شدید تنقید کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کےحوالے سے نقل کیا ہے کہ ناروے نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں امن فوج کے دستے اور مبصرین کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اعلان پر شدید تنقید کی ہے۔

ناروے کی وزیر خارجہ ینہ اریکسن سوریڈی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر اسرائیل یک طرفہ طورپر الخلیل میں عالمی امن دستے کا مشن ختم کرنا چاہتا ہے تو یہ اوسلو معاہدے کے ایک حصے پرعمل درآمد کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الخلیل میں امن وامان کی صورت حال مخدوش ہے اور اگر عالمی امن کے اہلکار وہاں سے نکل جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں فلسطینیوں میں خوف اور تشویش میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ تین روز قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے الخلیل میں تعینات عالمی امن فوجی دستے کا مشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی مبصرین کو وہاں سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا تھا کہ اسرائیل الخلیل میں عالمی امن کے اہلکاروں کو مزید برداشت نہیں کرسکتا،یہ لوگ ہمارے خلاف سرگرم ہیں اور انہیں الخلیل سے نکال دیا جائے گا۔

فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے اس اعلان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔

News Code 1887740

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 3 =