ہیومن رائٹس واچ کا افغان وزیر پر پابندی کا مطالبہ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے نو تعینات شدہ قائم مقام وزیر دفاع پر مبینہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی پر پابندیاں عائد کریں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے نو تعینات شدہ قائم مقام وزیر دفاع پر مبینہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی پر پابندیاں عائد کریں۔

افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کے شدید مخالف اسداللہ خالد کی تعیناتی نے انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی، جن کے مطابق اسداللہ خالد غزنی اور جنوبی قندھار کے گورنر کے طور پر اقدامِ قتل، تشدد اور منشیات کے کاروبارمیں ملوث تھے۔ اس سلسلے میں ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ ’اس بات کے معتبر شواہد موجود ہیں کہ اسداللہ خالد اپنے حکومتی عرصے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں‘۔

دوسری جانب اسداللہ خالد ، جو نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سیکیورٹی کا شعبہ سنبھالنے کے بعد 2012 میں طالبان کے خود کش حملے میں بال بال محفوظ رہے تھے، نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی قرار دیا۔

News Code 1887289

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 14 =