حویلیاں حادثہ میں پی آئی اے، سی اے اے غفلت کے مرتکب، تحقیقاتی رپورٹ

سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) نے 2016 میں ہونے والے حویلیاں حادثے کی تحقیقات میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے غفلت برتے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) نے 2016 میں ہونے والے حویلیاں حادثے کی تحقیقات میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے غفلت برتے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بائیں ہاتھ پر نصب انجن نمبر 1 کے اسٹیج 1 کی پاور ٹربائن سے ایک بلیڈ نکال دینے کی وجہ سے حادثے کے محرکات کا آغاز ہوا، اس بلیڈ کو نکالنے کے باعث فلائٹ کے دوران ایک انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس نے پروپیلر نمبر 1 کے غیر معمولی طرز عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

پروازوں کی سروس دستاویز کے مطابق ان ٹربائن بلیڈز کو 10 ہزار گھنٹے کے استعمال کے بعد فوری طور پر تبدیل کیا جانا ضروری ہے، چناچہ جب 11 نومبر 2016 کو انجن کی مرمت ہوئی تو یہ بلیڈ 10 ہزار 4 گھنٹے تک استعمال ہوچکا تھا اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت تھی لیکن تبدیل نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار جہاز مرمت کے بعد 93 گھنٹے تک پرواز کرچکا تھا، اس قسم کی کوتاہی پی آئی اے کی غفلت کی جانب اشارہ کررہی ہے جس کا کام مرمت اور کوالٹی کو یقینی بنانا ہے اور اس میں ممکنہ طور پر سی اے اے کی جانب سے نگرانی میں کوتاہی بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ ایس آئی بی ہوا بازی کے شعبے کے ماتحت ایک آزاد ادارہ ہے جس نے اپنی مرتب کردہ ابتدائی رپورٹ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کو بھی فراہم کردی ہے۔

واضح رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کا جہاز اے ٹی آر 500-42 (661-پی کے)، جو چترال سے اسلام آباد آرہا تھا، ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کے نزدیک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا تھا۔ پی آئی اے کی مذکورہ پرواز کے حادثے میں جہاز میں سوار تمام 47 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

News Code 1887233

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 12 =