انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں مزید اضافہ، اقوام متحدہ

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلنگ عروج پر پہنچ چکی ہے جس میں اسمگلرز فنڈز جمع کرنے کے لیے خواتین اور بچوں کی بھی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلنگ عروج پر پہنچ چکی ہے جس میں اسمگلرز فنڈز جمع کرنے کے لیے خواتین اور بچوں کی بھی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے ڈرگز اینڈ کرائمز کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 13 سالوں میں سب سے زیادہ 2016 میں انسانی اسمگلنگ کے واقعات پیش آئے۔ رپورٹ کف مطابق متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ اس وقت انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسمگلنگ کے لیے بچوں پر انحصار کیا جارہا ہے اور مجموعی طور پر متاثرین میں 30 فیصد تعداد بچوں کی ہی ہے جن میں لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد کم عمر لڑکیوں کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بچوں کی اسمگلنگ کا سب سے بڑا مقصد ان کا جنسی استحصال ہے جس کا تناسب 59 فیصد ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں متاثرہ افراد کی آدھی تعداد بالغ خواتین پر مشتمل تھی، تاہم اعداد و شمار کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 15 سالوں کے دوران اسمگلنگ میں خواتین اور بچیوں کی مجموعی تعداد 70 فیصد تک رہی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں پاکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال سے متعلق محدود معلومات فراہم کی گئی ہے تاہم ان ممالک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق بھی متاثرین میں خواتین اور بچیوں کی تعداد 59 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں اسمگلنگ میں سزاؤں کا تناسب کم رہا ہے وہاں اسمگلرز نے اپنی کارروائی جاری رکھیں کیونکہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں پہنچنے کا ڈر نہیں تھا۔

News Code 1887152

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 11 =