ہندوستان کی انتہاپسند حکمراں جماعت کو ریاستی انتخابات میں شکست کا سامنا

ہندوستان میں 2019 ء میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل مودی سرکار کو بڑا دھچکا لگ گیا۔ریاستی انتخابات کےغیرسرکاری نتائج کےمطابق راجستھان،چھتیس گڑھ میں کانگریس کوبرتری حاصل ہو گئی جبکہ یہ اہم ریاستیں بی جے پی کے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان میں 2019 ء میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل مودی سرکار کو بڑا دھچکا لگ گیا۔ریاستی انتخابات کےغیرسرکاری نتائج کےمطابق راجستھان،چھتیس گڑھ میں کانگریس کوبرتری حاصل ہو گئی جبکہ یہ اہم ریاستیں بی جے پی کے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں۔ ہندوستان کی پانچ ریاستوں میں ریاستی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے ،راجستھان،چھتیس گڑھ ،میزورام،تلنگانہ اور مدھیہ پردیش میں نتایج کا اعلان آج کیاجائے گا ۔مودی حکومت کی انتہا پسندی ریاستی انتخابات میں انھیں لے ڈوبی،تینوں ریاستوں میں اس سے قبل بی جے پی کی حکومت تھی ،میزورام اور تلنگانہ میں مقامی سیاسی جماعتوں نے اکثریت حاصل کرلی۔ابتدائی نتائج کے مطابق تین ریاستوں میں کانگریس کو برتری حاصل ہے، پہلی دفعہ ان ریاستوں میں سب سے زیادہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا ہے۔راجستھان کی 199 نشستوں میں سے 162 کے نتائج سامنے آئے ہیں جس میں کانگریس 94 اور بی جے پی 65 ملی ہیں۔چھتیس گڑھ کی 90 نشستوں میں سے 75 کے نتائج سامنے آئے ہیں جس میں کانگریس 50 اور بی جے پی 19 نشستوں ،مدھیہ پردیش کی 230 میں سے 200 کے نتائج،،کانگریس102 اور بی جے پی 96،میزورام میں 40 میں سے 28 نشستوں کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ ہندوستانی ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں نہ صرف پورا نہیں کیا بلکہ عوام کے لئے بہت بڑی مشکلات ایجاد کیں ، جس میں نوٹ بندی کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کی وجہ سے ہندوستانی عوام کو بہت سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ مودی سرکار نے نوٹ بندی کے منصوبے سے بہت بڑا فائدہ اٹھایا اور عوام کو زبردست نقصان پہنچایا۔

News Code 1886354

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 0 =