ہندوستان میں مندر میں خواتین کے داخلے پر پابندی غیر آئینی قرار

ہندوستانی سپریم کورٹ نے سبراملہ مندر میں 10 سے 50 سال کے درمیان کی خواتین کے داخلے پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیدیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستانی سپریم کورٹ نے سبراملہ مندر میں 10 سے 50 سال کے درمیان کی خواتین کے داخلے پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیدیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے کیرالہ میں واقع ہندوؤں کے مشہور مندر سبراملہ میں 10 سے 50 سال کے عمر کی خواتین کے داخلے پرعائد پابندی کو ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ مندر ہندوؤں کے ایک دیوتا سے منسوب ہے جہاں سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے 5 کروڑ یاتری آتے ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بھارت کا آئین اپنے اپنے عقائد کو بلا تخصیص مرد و زن عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے چنانچہ جنس کی بنیاد پر کسی پر پابندی لگانا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس لیے انتظامیہ خواتین کے داخلے پر عائد پابندی کو فوری طور پر ہٹائے۔

تین رکنی بینچ کی واحد خاتون جج اندو ملہوترا نے حیران کن طور پر پابندی ہٹانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مندر میں داخلے پر پابندی امتیازی سلوک کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ پجاریوں کا انتظامی اور اپنے عقائد کے تحت کیا گیا ایک فیصلہ ہے جس میں عدالت کو مداخلت نہیں کرنا چاہیئے۔ خاتون جج کی مخالفت کے باوجود اکثریتی فیصلے کو لاگو کیا جائے گا۔

News Code 1884344

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 4 =