امریکہ پر مشرقِ وسطیٰ تنازع کے دو ریاستی حل میں رخنہ ڈال رہا ہے، محمود عباس

فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے کوششوں میں رخنہ ڈالنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے کوششوں میں رخنہ ڈالنے کا الزام عاید کیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مقبوضہ القدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور فلسطینیوں کی مالی امداد بند کرنے کے فیصلے بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے تنازع کے دوریاستی حل کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کے ماضی کے تمام وعدوں سے انحراف کیا ہے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا یا ہے۔اس نے فلسطینی عوام کی انسانی صورت حال سے متعلق بھی جھوٹے دعوے کیے ہیں۔ محمود عباس نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کرتا ہوں کہ وہ یروشلیم، مہاجرین اور فلسطینی علاقوں پر یہود ی آباد کاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر سے متعلق اپنے فیصلے اور احکامات واپس لیں۔

News Code 1884343

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =