اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں فضائی حملوں میں 21 شہری نشانہ بنے

افغانستان میں اقوام متحدہ مشن کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ملک میں دو مختلف فضائی حملوں میں 21 افغان شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ مشن کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ملک میں دو مختلف فضائی حملوں میں 21 افغان شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ ہفتے افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کاپیسا میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل تھیں۔ خیال رہے کہ کاپیسا کے علاقے میں افغان طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے وردک میں 23 ستمبر کو ملٹری آپریشن کے دوران فضائی حملے میں 12 خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جاں بحق جاں بحق 12 افراد میں 6 سے 15 سال کے 10 بچے بھی شامل تھے جن میں 8 لڑکیاں تھیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ فضائی حملے افغان فورسز کی جانب سے کیے گئے تھے یا نیٹو فورسز نے کیے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں فضائی حملوں سے شہریوں کی ہلاکتوں میں 2017 کے مقابلے میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے، مذکورہ مدت میں فضائی حملوں سے ایک سو 49 افراد ہلاک جبکہ دیگر 2 سو 4 افراد زخمی ہوئے تھے۔

News Code 1884308

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =