اٹلی نے امیگریشن پالیسی مزید سخت کرنے کی منظوری دیدی

اٹلی کی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے اور ان کی ملک بدری سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کیلئے نئے اور سخت قانون کی منظوری دے دی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اٹلی کی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے اور ان کی ملک بدری سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کیلئے نئے اور سخت قانون کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کے مطابق ایسے تارکین وطن جو سنجیدہ نوعیت کے جرائم میں ملوث ہوں اور خاص طور پرایسے تارکین جوجنسی حملوں میں ملوث پائے جائیں گے انہیں فوری طور پر اٹلی سےبے دخل کر دیا جائے گا،اس سے قبل انہیں بے دخل کئے جانے کیلئے انتہائی طویل اپیل کے طریقہ کار کو اپنانا ہوتا تھا۔

اٹلی کے وزیر خارجہ میٹیو سلوانی جو تارکین وطن کے بارے میں انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں اور امیگریشن کے قوانین کو سخت سے سخت بنانے کے حامی ہیں،انہوں نےاس قانون کو منظور کرانے کیلئےایک تحریک بھی شروع کر رکھی ہے جسے انہوں نے’’اٹلی کو محفوظ بنانے کیلئے ایک قدم آگے‘‘ کا نام تجویز کیا ہے۔

میٹیو سلوانی ان ریسکیو شپ آپریٹرز سے بھی براہ راست تنازع میں ملوث رہے ہیں جنہوں نے اٹلی کے ساحلوں کے قریب تارکین وطن کی کشتیوں کو ڈوبنے سے بچایا،انہیں ایسے ہی معاملات میں تحقیقات کا بھی سامنا ہے۔

News Code 1884262

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 10 =