یمن میں 10 لاکھ بچے قحط کے خطرے سے دوچار ہیں

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے سیو دی چلڈرن کا کہنا یمن میں مزید 10 لاکھ بچے قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے سیو دی چلڈرن کا کہنا یمن میں مزید 10 لاکھ بچے قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔ جنگ کی وجہ سے خواراک کی قیمتوں میں اضافہ اور یمنی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر مزید خاندانوں کو خوراک کی کمی کا شکار کرے گا۔لیکن ایک اور بڑا خطرہ حدیبیہ شہر کے گرد جنگ کی وجہ سے ہے کیونکہ یہیں بندرگاہ پر امدادی سامان پہنچتا ہے جسے جنگ کے شکار علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ سیو دی چلڈرن کے مطابق ملک میں اس وقت 50 لاکھ20 ہزار بچے قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔  وہاں اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو تنخواہیں بھی وقت پر نہیں مل رہیں جبکہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں 2 سال سے تنخواہ نہیں ملی۔ جنگ کے بعد سے اب تک خوراک کی قیمتوں میں 68 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

رواں برس کے آغاز میں سیو دی چلڈرن نے بتایا تھا کہ ادارے نے 5سال سے کم عمر کے 4لاکھ کے قریب بچوں کو امداد پہنچائی ہے، تاہم ادارے نے خبردار کیا تھا کہ 36 ہزار بچے اس برس کے ختم ہونے سے پہلے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق3 سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ میں اب تک 10 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے دو تہائی عام شہری تھے۔ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 55000 بتائی گئی ہے۔

News Code 1884097

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 5 =