شام میں خانہ جنگی کے بعد پہلے بلدیاتی انتخابات

خانہ جنگی کا شکار شام میں حکومت کے زیر اثر علاقوں میں 2011 کے بعد ہونے والے پہلے بلدیاتی انتخابات میں عوام نے شرکت کی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار شام میں حکومت کے زیر اثر علاقوں میں 2011 کے بعد ہونے والے پہلے بلدیاتی انتخابات میں عوام نے شرکت کی۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت کے زیر اثر علاقوں میں صبح 7 بجے سے 6 ہزار 5سو50 ووٹنگ سینٹرز کھول دیے گئے تھے۔ بلدیاتی انتظامی کونسلز کی 18 ہزار 4 سو 78 نشستوں کے لیے 40 ہزار سے زائد امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ انتخابات میں کامیابی کے لیے امیدواروں نے دمشق کے پبلک اسکوائر اور پرانے شہر سمیت مختلف مقامات پر انتخابی پوسٹر چسپاں کیے تھے۔ آخری اطلاعات تک شامی حکومت کے زیر اثر کچھ علاقے خاص طور پر مشرقی شہر دیرالزور میں ووٹنگ کا عمل جاری تھا، یہ وہ علاقہ ہے جو گزشتہ برس اکتوبر میں شامی فورسز نے لڑائی کے بعد شدت پسند گروپ داعش سے خالی کرایا تھا۔ شامی حکومت کے زیر اثر نہ ہونے والے ادلب صوبے کے شمال مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں ووٹنگ نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ شام میں آخری بلدیاتی انتخابات خانہ جنگی سے 9 ماہ قبل دسمبر 2011 میں ہوئے تھے جبکہ 2014 میں صدارتی انتخابات اور 2016 میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے اور بشارالاسد کو 7 برس کےلیے مزید شام کا صدر انتخاب کیا گیا تھا۔

News Code 1884039

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 12 =