پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے داعش سے منسلک 9 افراد کو رہا کردیا

پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے داعش کمانڈروں کی امداد کے الزام میں گرفتار 9 ملزمان کو بری کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے داعش کمانڈروں کی امداد کے الزام میں گرفتار 9 ملزمان کو بری کردیا۔ جج محمودالحسن نے ملزمان حضرت بلال، فضل احمد، عبدالعزیز،زاہد الطاف، عبدالہادی، حکیم اللہ، امیر جان اور راز محمد کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کردیا۔

کوڈ آف کرمنل پروسیجر کے سیکشن 256-کے کے مطابق ٹرائل کورٹ ٹرائل کے کسی بھی مرحلے میں ملزم کو رہا کرسکتی ہے اگر موجودہ ثبوت کی روشنی میں اس کے مجرم قرار دیئے جانے کا امکان نہیں۔

سی ٹی ڈی نے بری ہونے والے ملزمان کے مختلف کردار بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جن بند فلور ملز پرانکاؤنٹر کیا گیا تھا،حضرت بلال اور فضل احمد نامی ملزمان ان کے مالکان تھے جہاں داعش اراکین بھی پناہ لیے ہوئے تھے جبکہ الطاف اور زاہد ان ملز کے چوکیدار تھے۔

ملزم عبدالعزیز اور حیات اللہ پر زخمی ملزم قاری نذر کو ابتدائی طبی امداد دینے اور افغانستان فرار کرانے کے الزامات عائد ہیں۔ ملزم عبدالعزیز اور حیات اللہ پر زخمی ملزم قاری نذر کو ابتدائی طبی امداد دینے اور افغانستان فرار کرانے کے الزامات عائد ہیں۔

اسی طرح دیگر ملزمان پر دہشت گردوں کی مدد کرنے اور انہیں سہولیات دینے کے الزامات عائد ہیں۔

ارسلان فلور ملز دالازک روڈ پر ہونے والے انکاؤنٹر سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد، خود کش جیکٹس، ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا گیا تھا۔

پولیس نے ہلاک ہونے والے ایک  دہشت گرد کی شناخت عارف عرف کمانڈر کے نام سے کی تھی جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت سے متعلق نہیں بتایا گیا۔

تاہم،بعض حکام کا خیال ہے کہ دوسرا دہشت گرد داعش تنظیم کا کمانڈر مصطفیٰ تھا جو پولیس عہدیداران کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔

News Code 1883604

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 13 =