مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ذکریا ذاکر کو معطل کرتے ہوئے سینئر ترین پروفیسر کو عبوری طور پر وائس چانسلر تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پاکستانی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جامعہ پنجاب کی 80 کینال زمین حکومت کو دینے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران وائس چانسلر اور چیف سیکریٹری عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس حیثیت میں یونیورسٹی کی 80 کینال اراضی حکومت کو دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سینڈیکٹ نے کس حیثیت سے یونیورسٹی کی اراضی حکومت کو دی؟ عدالت کے علم میں ہے کہ اورنج لائن منصوبے کے لیے یہ زمین فراہم کی گئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ثابت ہوگیا کہ حکومت جائز اور ناجائز مطالبات منوانے کے لیے مستقل وائس چانسلر تعینات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی برسوں سے جامعہ پنجاب میں مستقل وائس چانسلر کیوں نہیں لگایا گیا، آگاہ کیا جائے کہ اس تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔ اس موقع پر عدالت نے زمین فراہم کرنے والے سنڈیکیٹ ممبران کو طلب کرتے ہوئے وائس چانسلر ذکریا ذاکر کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ جنوری میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ پنجاب حکومت نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے حوالے سے ایک مدرسے کی زمین حاصل کی تھی، جس کے بعد انہیں معاوضہ ادا کرنے کے لیے حکومت جامعہ پنجاب کا حصول چاہتی تھی۔اس معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ پر حکومت کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا گیا تھا کہ وہ اپنی زمین حکومت کے حوالے کرے لیکن ابتدائی طور پر اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نصر نے کہا تھا کہ جامعہ پنجاب پرانے کیمپس کی کچھ زمین حکومت کو نہیں دی جائے گی۔ بعد ازاں جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نصر نے پنجاب حکومت کی جانب سے جامعہ کی زمین دینے کے معاملے پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔ڈاکٹر ظفر معین نے کہا تھا کہ‘انہوں نے حکومت پنجاب کے بعض عناصر کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس کی دو کنال اراضی مذہبی جماعت کو حوالے کرنے پر شدید دباؤ کے بعد استعفیٰ دیا۔
پاکستانی سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ذکریا ذاکر کو معطل کرتے ہوئے سینئر ترین پروفیسر کو عبوری طور پر وائس چانسلر تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
News ID 1880193
آپ کا تبصرہ