پاکستان میں دھرنا جاری / مذاکرات ایک بار پھر ناکام

خبر آئی ڈی: 4149780 -
پاکستان میں وزير قانون سے استعفی کے مطالبے پردھرنا جاری ہے جبکہ پاکستانی حکام اور دھرنا قیادت کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں وزير قانون سے استعفی کے مطالبے پردھرنا جاری ہے جبکہ پاکستانی حکام اور دھرنا قیادت کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے ہیں ۔ اسلام آباد میں دھرنے کے مسئلے کے حل کے لیے حکومتی وفد اور تحریک لبیک یا رسول اللہ (ص) کے رہنماؤں کے درمیان پنجاب ہاؤس میں ڈھائی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے۔ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات میں راجہ ظفرالحق، خواجہ سعد رفیق ، وزیر قانون زاہد حامد، کیپٹن صفدر، رانا ثناء اللہ، انوشہ رحمان، چیف سیکرٹری پنجاب ،آئی جی پنجاب اور کمشنر نے شرکت کی۔ جب کہ تحریک لبیک کے نمائندہ وفد میں ڈاکٹر شفیق امینی ،پیراعجاز اشرفی ،عنایت الحق شاہ  اور مولانا ظہیر نور شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے معاملے پر  ڈیڈلاک برقرار رہا اور مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ حکومت نے استعفے کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ حکومت اور دھرنا قیادت کے درمیان مذاکرات کا یہ چھٹا دور ناکام ہوا ہے۔ واضح رہے کہ دھرنے دینے والے مذہبی کارکنان قانون میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامے اور تمام شقوں کو بحال کردیا گیا ہے اس لیے دھرنا بلاجواز ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

1 + 14 =