یمن کے عوام نے خلیجی ممالک کی ثالثی کو سازش قراردیکر مسترد کردیا ہے

یمن کے امریکہ نواز صدر علی عبد اللہ صالح کو عوامی قہر و غضب سے بچانے کے لئے سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل نے جو تجویز پیش کی تھی اسے یمن کے عوام نے سازش اور مکر و فریب قراردیکر مسترد کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرزکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یمن کے امریکہ نواز صدر علی عبد اللہ صالح کو عوامی قہر و غضب سے بچانے کے لئے سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل نے جو تجویز پیش کی تھی اسے یمن کے عوام نے سازش اور مکر و فریب قراردیکر مسترد کردیا ہے۔بتیس سال سے اقتدار پر براجمان صدر علی عبداللہ صالح نے خلیجی ریاستوں کی طرف سے یمن میں احتجاج پر قابو اور اقتدار کی منتقلی کے ایک منصوبے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس کے تحت وہ حزب اختلاف سے ہر قسم کے مقدمات سے استثنیٰ کے معاہدے پر دستخط ہونے کے ایک ماہ بعد اقتدار نائب صدر کے حوالے کر دیں گے۔ اگرچہ یمن کی حزب اختلاف کی جانب سے منصوبے کا محتاط اور مشروط خیرمقدم کیا گیا ہے لیکن کئی گروپوں نے واضح کردیا ہے کہ موجودہ منصوبہ سازش ہے اور اسکو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یمنی حزب اختلاف کے ایک سرکردہ رہنما ڈاکٹر توفیق القذفی کا کہنا تھا کہ یمنیعوام نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور لوگ اس وقت تک گھروں کو نہیں جائیں گے جب تک صدر رخصت نہیں ہو جاتےبحرین، سعودی عرب، کویت، عمان، قطر، اور متحدہ عرب امارت پر مشتمل خلیج تعاون کونسل کی طرف سے یمن کے صدر عبداللہ صالح کو اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کی ضمانت پر اقتدار سے علیحدہ ہونے کا کہا گیا تھا۔

اگرصالح اقتدار سے علیحدہ ہو جاتے ہیں تو وہ تیونس کے زین العابدین اور مصر کے فرعون حسنی مبارک کے بعد تیسرے عرب ڈکٹیٹررہنما ہوں گے جنہیں عوامی احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔یمن میں صدر کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک کم از کم ایک سو بیس افراد ہلاک ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

News Code 1297027

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 2 =