نریندر مودی نے گجراتی مسلمانوں کے قتل عام کا حکم دیا تھا

ہندوستان کی ریاست گجرات کے ایک سینیئر پولیس افسر سنجیو بھٹ نےہندوستانیسپریم کورٹ میں داخل کیے گئے ایک بیان حلفی میں کہا ہے کہ گجرات کےوزیر اعلیٰ نریندر مودی نے گجرات کےمسلمانوں کے قتل عام کا حکم دیا تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بی بی سی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کی ریاست گجرات کے ایک سینیئر پولیس افسر سنجیو بھٹ نےہندوستانیسپریم کورٹ میں داخل کیے گئے ایک بیان حلفی میں گجرات کےوزیر اعلیٰ نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نےگودھرا کے واقعہ کے بعدمسلمانوں کے قتل عام کا حکم صادرکرتے ہوئے پولیس سے کہا تھا کہ وہ ہندوؤں کو اپنا غصہ نکالنے دیں۔ پولیس کے اعلی اہلکار کا کہنا ہے کہنریندر مودی نےگودھرا کے واقعے کے بعد زبردست کشیدگی کے دوران ستائیس فروری کو احمدآباد میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں کی ایک میٹنگ میں شرکت کی تھی جس میں بقول ان کے وزیر اعلی نریندر مودی نے پولیس سے کہا کہ وہ ’فسادیوں کو نہ روکیں اور مسلمانوں کی طرف سے مدد کی التجاؤں پر کوئی توجہ نہ دیں۔ عدالت عظمی میں داخل کی گئی اٹھارہ صفحات پر مشتمل اس بیان حلفی میں سنجیو بھٹ نےمیٹنگ کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس میں آٹھ اہلکار شریک تھے۔۔ ان پولیس افسروں نے بھی مودی کے بیان کی تصدیق کی ہے۔

سنجیو بھٹ نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی کو بھی یہ باتیں بتائیں تھیں لیکن انہوں نے ان کے بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایس آئی ٹی نے ان کی گواہی کے بیانات کو گجرات حکوت کو لیک کر دیا تھا اور اب وہ اپنی زندگی کے لیے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے اور اپنی فیملی کے لیے پولیس کا تحفظ مانگا ہے۔

واضح رہے کہ سنجیو بھٹ 2002 میں فسادات کے وقت انٹیلی جنس کے ڈپٹی کمشنر تھے اوراس وقٹ گجرات پولیس میں ٹریننگ محکمے کے انجارچ ہیں۔ ان کی بیان حلفی گجرات فسادات کے سلسلے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

News Code 1294837

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 16 =