تیونس کے سابق صدر بن علی موساد کے ایجنٹ تھے

امریکہ نے مشرق وسطی میں تیل اور اپنے دیگر مفادات کے تحفظ کے لئے عرب عوام کے سروں پر اپنے ایجنٹوں کو مسلط کررکھا ہے تیونس کے سرکاری ٹی وی کے مطابق تیونس کے فراری صدر بن علی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ تھے بن علی نے آج کل سعودی عرب میں پناہ لے رکھی ہے ادھر سعودی عرب علاقہ میں امریکہ نواز عرب ڈکٹیٹروں کو بچانے کی بھر پور تلاش کررہا ہے لیکن سعودی عرب اور اسرائیل اپنی تمام کوششوں کے باوجود مصری فرعون کو عوامی قہر سے نہیں بجا سکے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عرب آن لائن کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تیونس کے سرکاری ٹی وی پر ایسی اسناد شائع کی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تیونس کے فراری صدر بن علی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ تھے بن علی نے آج کل سعودی عرب میں پناہ لے رکھی ہے ادھر سعودی عرب علاقہ میں امریکہ نواز عرب ڈکٹیٹروں کو بچانے کی بھر پور تلاش کررہا ہے سعودی عرب نے بحرین کے ڈکٹیٹر کو بچآنے کے لئے وہاں اپنے فوجی بھیج رکھے ہیں جنھوں نے قرآن مجید کئی نسخوں کو جلا دیا ہے اور25 مسجدوں کو شہید کردیا ہے لیکن سعودی عرب اور اسرائیل اپنی تمام کوششوں کے باوجود مصری فرعون کو عوامی قہر سے نہیں بجا سکے۔ ان اسناد کے مطابق بن علی عرب ممالک میں اسرائیلی سلامتی کے مسائل کی حمایت میں کام کرتا رہا ہے شواہد کے مطابق بن علی کا فلسطینی رہنماؤں کے قتل میں ہاتھ رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اکثر عرب ممالک کے حکمراں امریکی یا اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج تک فلسطینی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا کیونکہ اگر عرب رہنما سچے مسلمان حکمراں ہوتے تو وہ سر پر کفن باندھ کرفلسطینیوں کی حمایت کرتے لیکن عرب ممالک کے موجودہ حکمرانوں نے کبھی ایسا نہیں کیا بلکہ وہ تو ایران کو بھی فلسطین کے مسئلہ میں مداخلت کرنے سے منع کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مسئلہ فلسطین ایک عربی مسئلہ ہے لیکن ایران نے عربوں کی اس کوشش کو ناکام بنادیا کیونکہ ایران کا ماننا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ عربی نہیں بلکل اسلامی مسئلہ ہے اور ایران فلسطیکنیوں کی حمایت جاری رکھےگا۔

News Code 1294468

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 0 =