فاطمہ کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور فاطمہ کا غضب میرا غضب ہے

رسول خدا(صلى اللہ عليہ وآلہ) نے فرمایا:" فاطمةبضعةمنّي فمن أغضبها أغضبني فاطمہ (س)میرے جسم و جان کا ٹکڑا ہے جس نے انہیں غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ہے.

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے  نقل کیا ہے کہ  رسول خدا(صلى اللہ عليہ وآلہ) نے فرمایا:" فاطمةبضعةمنّي فمن أغضبها أغضبني فاطمہ (س)میرے جسم و جان کا ٹکڑا ہے جس نے انہیں غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ہےاور یہ واضح ہے کہ جس نے رسول خدا کو غضبناک کیا اس کی سزا قرآن مجید میں یوں بیان ہوئی ہے: " وَ الّذين يُؤْذُونَ رَسُول اللّهلَهُم عَذابٌ أَليم (التوبه/61 ، وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اذیت پہنچائیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے.احادیث  میں و ا رد ہوا ہے کہ فاطمہ کی رضا ، رسول اللہ (ص) کی رضا اور اللہ تعالی کی رضا ہے۔.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: « فاطمةُ انّ اللّه يغضبُ لِغضبك و يَرضى لرضاك»
بیٹی فاطمہ! خدا آپ کے غضب پر غضبناک ہوتا ہے اور آپ کی خوشنودی پر خوشنود ہوتا ہے.
اسی عالی مرتبے کی بدولت آپ سلام اللہ علیہا عالمین کی خواتین کی سردار ہیں؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ سلام اللہ علیہا کے حق میں ارشاد فرمایا ہے: «يا فاطمة! ألا ترضين أن تكونَ سيدةَ نساء العالمين، و سيدةَ نساءِ هذهالأُمّةو سيدةنساء المؤمنين.
بیٹی فاطمہ! کیا آپ راضی نہ ہونگی کہ خدا نے اتنی بڑی کرامت و عظمت آپ کو عطا فرمائے کہ آپ دنیا کی خواتین کی سردار اور اس امت کی خواتین کی سردار اور با ایمان خواتین کی سردار ہوں.

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اپنےبچپن میں بہت سے سخت وناگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کے سن میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا۔ اب رحمۃ للعالمین (ص)کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول اکرم (ص) کو دی جانے والی اذیتین سامنے تھیں کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہو لہان دیکھتیں تو کبھی یہ خبر سنتی تھیں کہ مشرکوں نے ان کے بابا (ص)کے سر پر کوڑا ڈالا ہے۔. کبھی یہ سنتی تھیں کہ دشمن بابا کے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ مگر اس کم سنی کے عالم میں بھی سیّدہ عالم نہ ڈریں نہ سہمیں نہ گھبرائیں بلکہ اس ننھی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی مدد گاربنی رہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد شہزادی دوعالم حضرت بی بی فاطمہ زہراء (س) پر مصائب کا اسقدر ہجوم ہوا کہ بی بی فریاد بلند ہوگئی اور اپنے بابا کی قبر پر آکر فریاد کرتی تھیں بابا آپ کی رحلت کے بعد مجھ پر اتنے مصائب پڑے ہیں کہ اگر یہ مصیبتیں دن کی روشنی پر پڑتیں تو دن رات کی تاریکی میں بد جاتے ، سرکار دوعالم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراء (س) یہ مصیبتیں کافروں اور مشرکوں کی طرف سے نہیں بلکہ کلمہ گو مسلمانوں کی طرف سے ڈالی گئی تھیں۔

News Code 1290999

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 7 =