پاکستان میں خودکش حملوں میں وہابی تنظیم، تحریکِ اسلامی ملوث ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پولیس افسرکا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے 22 خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں سے11 واقعات میں تحریکِ اسلامی نامی تنظیم ملوث ہےجو دہشت گرد اور ممنوعہ تنظیموں کی لسٹ سے باہر ہے یہ تنظیم وہابیوں سے متعلق ہےپاکستان میں وہابی دہشت گرد تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیںجن کے سعودی عرب سے قریبی روابط ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پولیس افسرکا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے بائیس خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں سےگیارہ واقعات میں تحریکِ اسلامی نامی تنظیم ملوث ہےجو دہشت گرد اور ممنوعہ تنظیموں کی لسٹ سے باہر ہے یہ تنظیم وہابیوں سے متعلق ہےپاکستان میں وہابی دہشت گرد تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیںجن کے سعودی عرب سے قریبی روابط ہیں۔اسلام آباد کےڈی آئی جی بنیامین نے اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے انجینیئرنگ یونیورسٹی کے طالب علم عدنان احمد کی گمشدگی سے متعلق بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ پولیس افسر نے لاپتہ ہونے والے طالب علم کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ عدنان شدت پسندوں کے ایک گروپ کا کمانڈر تھا جو کچھ عرصہ قبل قبائلی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ مبینہ شدت پسند کی ہلاکت سے متعلق اُس کی والدہ کو ایک خط بھی موصول ہوا جو قبائلی علاقے سے لکھا گیا ہے۔ ڈی آئی جی بنیامین کے مطابقاس تنظیم میں مختلف کالعدم تنظیموں کے افراد شامل ہیں جنہیں اس تنظیم میں مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ کچھ افراد کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ مختلف لوگوں بالخصوص کم عمر بچوں کو تنظیم میں بھرتی کریں جبکہ کچھ افراد کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ پولیس کو تنظیم کے خلاف تفتیش سے روکنے کے لیے عدالتوں میں درخواستیں دائر کریں۔ڈی آئی جی کے مطابق اس تنظیم کا نام کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

News Code 1290014

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 14 =