ایران کا سکیورٹی کونسل سے بحرین میں عوامی قتل عام  کورکوانے کا مطالبہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سکیورٹی کونسل کے سربراہ کے نام ایک خط میں آل سعود اور آل خلیفہ کے ہاتھوں بحرین میں عوامی قتل عام کو رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون  اور سکیورٹی کونسل کے سربراہ کے نام ایک خط میں آل سعود اور آل خلیفہ کے ہاتھوں بحرین میں عوامی قتل عام رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے خط میں لکھا ہے کہ بحرین میں لوگوں کو اداروں اور نوکریوں سے وسیع پیمانے پرمذہبی بنیاد نکالا جارہا ہے جبکہ غیر بحرینیوںکو وسیع پیمانے پر نوکریاں دی جارہی ہیں سعودی فوجی مسجدوں کو مسمار اور منہدم اور قرآن مجید کی بے حرمتی کررہے ہیں  بحرین میں بچوں اور عورتوں کا وسیع پیمانے پرقتل عام کیا جارہا ہے اور بحرین کے دردناک حوادث پر سکیورٹی کونسل کی خاموشی اور اقوام متحدہ کے سکوت پر  سخت افسوس اور تعجب ہورہا ہے صالحی نے کہا کہ بحرینی عوام کو بحرینی اور سعودی حکومتیں ملکر قتل عام کررہی ہیں، بحرینی عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے صالحی نے کہا ہے کہ بحرین کے عوام کا انقلاب ویسا ہی انقلاب ہے جیسا  مصر و تیونس اور لیبیا اور یمن میں رونما ہوا ہے صالحی نے خط میں لکھا ہے کہ  بحرینی عوام کے مطالبات جائز مطالبات ہیں اور بحرینی عوام کا احتجاج پرامن احتجاج ہے بحرینی عوام اپنے ملک میں جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں اور سکیورٹی کونسل کا فرض ہے کہ وہ عوامی مطالبات کی حمایت اور ان کو تحفظ فراہم کرے صالحی نے کہا کہ بحرین کے مسئلہ کا حل فوجی نہیں بلکہ عوامی حل ہے اور اس کو سفارتی طریقہ سے حل کرنا چاہیے انھوں نے خط میں لکھا ہے سعودی فوجیوں نے بحرین میں اپنی بربریت کا ثبوت فراہم کیا ہے لیکن وہ عوامی احتجاج پر قابو نہیں پاسکے ہیں اور نہ ہی قابو پا سکیں گے صالحی نے کہا کہ ایران اور بحرین کے عوام کے تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں اور ایران بحرینی عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کے مقابلے میں خاموش نہیں رہ سکتا انھوں نے کہا کہ اگر بحرین کے معاملے کو منصفانہ طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے علاقہ  پر تباہ کن اور سنگین نتائج بر آمد ہونگے صالحی نے سکیورٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر بحرین کے مسئلہ پر اپنی توجہ مبذول کرکے اس مسئلہ کو حل کرےصالحی نے اپنے خط کو سکیورٹی کونسل کی اسناد کے طور پر شائع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

News Code 1289295

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =