بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری

بحرین کی جیلوں میں آل سعود اور آل خلیفہ کی جانب سے سیاسی قیدیوں کو سخت اور وحشتناک شکنجے دینے کا سلسلہ جاری ہےجس کے نتیجے میں اب تک 4 قیدی شہید ہوگئے ہیں جبکہ آل خلیفہ اور آل سعود کی طرف سے اپنے باپ کی گرفتاری کے خلاف بحرین کی ایک خاتون نے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی  ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کو سخت اور وحشتناک شکنجے دیئے جارہے ہیں ۔ جن کے نتیجے میں اب تک 4 قیدی شہید ہوگئے ہیں آل خلیفہ اور آل سعود کی طرف سے اپنے باپ کی گرفتاری کے خلاف بحرین کی ایک خاتون زینب خواجہ نے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ زینب خواجہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں سعودی اور آل خلیفہ کے فوجی بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی  اور سنگين جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں  زینب خواجہ ایک بچے کی ماں ہیں انھوں نے کہا کہ جب تک ان کے شوہر ، باپ اور چچا جیل سے آزاد نہیں ہوجاتے اس وقت تک وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گی۔ بحرینی عوام نے 14 فروری کو حکومت کے خلاف اپنے احتجاج کا پر امن آغاز کیا لیکن بحرینی عوام کے پرامن احتجاج کر سعودی عرب، امارات اور بحرینی سکیورٹی دستوں نے ملکر بری طرح کچلنے کی کوشش کی، سیکڑوں افراد کو اب تک گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ درجنوں افراد شہید ہوگئے ہیں  سعودی فوجیوں نے بحرین میں کئی مسجدوں کو منہدم اور مسمار کردیا ہے قرآن کریم کی سعودی فوجیوں نے توہین اور بے حرمتی کرکے اپنے یہودی ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے کئی دیگر مقدس مقامات کو بھی سعودی فوجیوں نے منہدم کیا ہے سعودی فوجیوں نے امریکی اشاروں پر بحرین پرلشکر کشی کی ہے جس  سےعلاقہ پر سنگین اور تباہ کن نتائج برآمد ہونگے۔ بحرینی عوام کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ بحرین میں جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں اور امریکہ نواز حکمرانوں سے ملک کو نجات دلانے کی تلاش و کوشش میں ہیں۔  ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹر جنرل بان کی مون نے بھی کل دوحہ میں بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی ناقابل قبول عمل ہے اور بحرین کو انسانی حقوق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

News Code 1288922

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 8 =