لیبیا پرنیٹو کے فضائی حملے ناکام// قذافی کی طرف سے عوام پر حملے جاری

لیبیا پر نیٹواتحادی افواج کے حملے اب تک کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کرسکے اور اس بارے میں نیٹو کے وزرائے خارجہ شدید اختلافات کا شکار ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہلیبیا پر نیٹواتحادی افواج کے حملے اب تک کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کرسکے اور اس بارے میں نیٹو کے وزرائے خارجہ شدید اختلافات کا شکار ہوگئے ہیں۔آج جرمنی کے دارالحکومت برلن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہو رہا ہے،اتحادیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ قذافی کے خلاف اپنے حملوں کو مزید موثر بنائے۔اطلاعات کے مطابق نیٹو کے اٹھائیس ملکوں میں سے صرف چھ ملک لیبیا کے خلاف حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔امریکہاور برطانیہ دیگر ملکوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ جنگی طیارے بھیجیں۔ امریکہ،فرانس اور برطانیہ لیبیا پر حملوں کی حمایت کر رہے ہیں جب کہ جرمنی اور ترکی فوجی مداخلت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ مسئلہ فوجی مداخلت کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے،بیلجیم نے بھی مخالفت کی ہےانقلابیوں کو مسلح کرنے کے بارے میں بھی نیٹو ارکان میں اختلافات ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ ، فرانس اور برطانیہ پہلے تیل حاصل کرنے کے لئےقذافی کے زبردست حامی اور مددگار رہے ہیں اور اب بھی وہ لیبیا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانے کے لئے  لیبیا پر فضائی حملے کررہے ہیں جبکہ قذافی اور نیٹو کے حملوں میں عام شہری کا زبرد ست جانی نقصان ہوا ہے اب تک دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

News Code 1288785

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 11 =