فرانس کا آزادی اورانسانی حقوق پرجارحانہ حملہ

فرانسیسی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کرکے آسمانی ادیان کی توہین کا ارتکاب کیا ہے اورانسانی آزادی و انسانی حقوق پر شدید اور جارحانہ حملہ کیا ہے فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت اور اسےنسل پرستی پر مبنی اقدام قراردیا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کرکے آسمانی ادیان کی توہین کا ارتکاب کیا ہے اورآزادی و انسانی حقوق پر شدید اور جارحانہ حملہ کیا ہے فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت  اور اسےنسل پرستی پر مبنی اقدام قراردیا جارہا ہے۔فرانس میںخواتین کے لئےحجاب کی آزادی ختم کردی گئی۔خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کا سامنا کرنے پڑے گا۔آج پیرس میں برقع پر پابندی کے خلاف احتجاج پردوبرقع پوش خواتین سمیت کئی افراد گرفتار کرلیا گیا ہے۔فرانس میں عوامی مقامات پر برقع یا چہرہ چھپانے والے دیگر ملبوسات پر پابندی کا بل گزشتہ سال منظور کیا گیا تھا ، جبکہ تعلیمی اداروں میں حجاب پر 2004میں ہی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ عوامی مقامات پر حجاب کرنے والی خاتون کو پولیس اسٹیشن لے جایا جائے گا اور اس پر150 یوروجرمانہ عائد کیا جائے گااور کسی دوسرے کو زبردستی حجاب پہنانے والے کو ایک سال قید اور تیس ہزار یورو جرمانہ اداکرنا ہوگا،فرانس کے اس فیصلے کو دنیا بھر میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا ، فرانس میں مقیم مسلم خواتین نے حجاب پر پابندی کو ماننے سے انکار کردیا ہے ۔فرانس میں پچاس لاکھ مسلمان آباد ہیں جو کسی یورپی ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہےفرانس کے اس فیصلہ سے مغربی ممالک کی آزادی اور انسانی حقوق کی حمایت کا پردہ چاک ہوگيا ہے فرانسیسی حکومت کے اس اقدام سے ظآہر ہوتا ہے کہ فرانسیسی حکومت خدا کے ساتد  لڑائی پر اتر آئی ہے جس کے سنگين نتائج بر آمد ہونگے۔

News Code 1287270

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 6 =