بحرین کے بادشاہ کا شام کے خلاف موساد کے ساتھ تعاون

ویکی لیکس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے بحرین کے وزیر اطلاعات و نشریات کو حکم دیا کہ بحرینی ذرائع ابلاغ میں اسرائیل کو دشمن اور صہیونی حکومت سے نہ لکھا جائے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اخـبار گارڈین کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے بحرین کے وزیر اطلاعات و نشریات کو حکم دیا کہ بحرینی ذرائع ابلاغ میں اسرائیل کو دشمن اور صہیونی حکومت سے نہ لکھا جائے اوربحرین کے ذرائع ابلاغ میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی ذمہ داری شام کی گردن پر ڈالنے کی کوشش کی جائے۔ ویکی لیکس کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے بادشاہ نے 2005 میں امریکی سفیر ویلیام مونرو سے ملاقات میں اسرائیل کی تعریف و تمجید کی اور امریکی سفیر نے امریکہ کو رپورٹ ارسال کی کہ بحرین کے بادشاہ کے اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ساتھ قریبی روابط ہیں واضح رہے کہ موجودہ خلیجی ریاستوں کےعرب حکمرانوں کا امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے ساتھ گہرا رابطہ ہے اور اس رابطہ میں وہابی اور یہودی لابی سرگرم عمل ہے اور وہ اپنے مشترکہ عمل میں عالم اسلام کو نقصان پہنچانے کی تلاش وکوشش کررہے ہیں لیکن علاقہ میں جاری عوامی اسلامی بیداری سے سعودی عرب کے وہابیوں اور یہودیوں کے مشترکہ منصوبہ  پھیکے پڑ گئے ہیں امریکہ وہابی ملاؤں کے ذریعہ علاقہ کے اسلامی انقلاب پر کنٹرول حاصل کرنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے اور وہابی ملاؤں نے بھی امریکی حمایت میں عوامی تحریکوں کے خلاف فتوؤں کے منہ کھول دیئے ہیں لیکن مسلمان اب وہابیوں کو پہچان چکے ہیں اور ان کے فتوؤں کو کوئی بھی مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ وہابیوں کے فتوے در حقیقت امریکی فتوے ہیں وہابی ملا مسجدوں اور خطبوں میں اسرائیل کے بجائے ایران کوخطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ تمام شیعہ اور سنی مسلمان جانتے ہیں کہ ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو تمام مسلمانوں کا حامی ہے اور جس کی حمایت کی بنیاد پر مسئلہ فلسطین آج بھی زندہ ہے ورنہ امریکہ نوازعرب حکرانوں نے تو فلسطین کو کب سے اسرائیل کے حوالے کررکھا ہے۔

News Code 1284879

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 5 =