یمنی فوج کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک

یمن کے شہر تعز میں فوج نے حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلائی ہے جس کے نتیجہ میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تیس کی حالت نازک ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یمن کے شہر تعز میں فوج نے حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلائی ہے جس کے نتیجہ میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تیس کی حالت نازک ہے۔خبروں کے مطابق نشانہ بازوں نے بحرِ احمر پر واقع یمن کے چوتھے بڑے شہر حدیدہ میں بھی ایک مارچ میں شریک مظاہرین کو نشانہ بنایا۔تشدد کا یہ واقعہ یمن میں حکومت کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کی ایک کڑی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدرعلی عبداللہ صالح اقتدارچھوڑ دیں۔ تاہم صدر نے جو پچھلے بتیس برس سے حکمران ہیں، کہا ہے کہ وہ اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔

تعز کے شہر میں تشدد اس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے آزادی سکوائر کی طرف مارچ کیا۔ جب احتجاجی مارچ گورنر کے ہیڈ کوارٹرز سے آگے بڑھا تو فوج نے جلوس کا راستہ روکا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ طبی ذرائع کے مطابق جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کے سر اور سینے میں گولیاں لگی ہیں ، ذرائ‏ کے مطابق عرب ڈکٹیٹر امریکہ کو خوش کرنے کے لئے امتدار سے چپکے ہوئے ہیں اور عرب عوام کا قتل عام کررہے ہیں. ذرائع کے مطابق امریکہ کی لیبیا ، بحرین اور یمن میں متضاد اور منافقانہ  پالیسی جاری ہے۔ امریکہ یمن اور بحرین کے ڈکٹیروں کی حمایت کررہا ہے جبکہ لیبیا میں اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں ہے۔

News Code 1281524

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 7 =