علاقہ میں آئندہ مزید نئے اور جدید حالات رونما ہونگے

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اعلی فوجی اور انتظامی کمانڈروں سے ملاقات میں فرمایا: علاقہ میں آئندہ مزید نئے اور جدید حالات رونما ہونگے۔

مہرخبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اعلی فوجی اور انتظامی کمانڈروں سے  ملاقات میں قوموں کی حرکت و سال و ایام کے با برکت اور مبارک ہونےکو جد وجہد و تلاش، شوق ونشاط سےکام  اور خلاقیت واخترعات اور طویل المدت  نگاہ کے ہمراہ اللہ کی ذات پر توکل کوقرار دیتے ہوئے فرمایا: یہ مبارک تحریک جو آج علاقہ میں شروع ہوئی ہے ایرانی قوم کی شجاعت، ہمت، پختہ عزم ، استقامت کے نتائج اور میدان میں اپنی طاقت و توانائی ، نشاط اور عزم کو پیش کرنے کے بعض ثمرات ہیں اور آئندہ علاقہ میں حالات مزید تبدیل ہونگے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بہار اور نوروز کی خصوصیت ، نیز طبیعت و قدرتی مناظر کے رشد اور بالندگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انسان بھی عالم طبیعت کے ساتھ اپنے آپ کو ہمآہنگ کرسکتا ہے اور اس بہترین موقع اور فرصت سے اپنی خلاقیت ، اختراعات ، نوآوری اور بالندگی میں استفادہ کرسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اللہ تعالی کی مدد و نصرت پر اعتقاد واعتماد اور الہی اہداف کی جانب حرکت کوبالندگی کی راہ ہموار کرنے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کی ذات پر ایمان  و امید، مشکلات کے سامنے مایوس نہ ہونا، طویل المدت اور تاریخی نگاہ میں پیشرفت و ترقی کا راز ہے اور اس جذبہ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی، مشکلات و دباؤکے سامنے ایرانی عوام کی پائداری و استقامت کو رشد و بالندگی کی حرکت کا اہم نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: دنیا کے تقریبا تمام تجزیہ نگار اس بات کے معترف ہیں کہ مشرق وسطی اور شمال افریقہ میں جاری عوامی لہر اور تحریک، ایرانی قوم کے قیام کا نتیجہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے اثرات بالخصوص مسئلہ فلسطین کے نمایاں ہونے اور سامراجی طاقتوں کی شکست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ کی موجودہ تحریک در حقیقت عوام کےجذبات، افکار اور فیصلوں کے تدریجی طور پر جمع ہونے کا نتیجہ ہے جو اب عملی شکل میں ظاہر ہوئی ہے اور یہ موضوع بھی ایرانی عوام کی استقامت، ثبات قدمی، پائداری اوراسلامی جمہوریہ ایران کی پیشرفت و ترقی کے اثرات کی واضح علامت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مزید فرمایا: انقلاب اسلامی ایران شجرہ طیبہ کے مانند ہے اور ایرانی قوم کی عزت و عظمت، اسلامی نظام کی سیاسی سربلندی، مختلف سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں پیشرفت و خلاقیت اور منہ زوور طاقتوں کے سامنے استقامت و پائداری، 32 سال میں ایرانی عوام کی ثابت قدمی کے عمدہ ثمرات ہیں  اور ایرانی قوم کی حرکت آج علاقائی قوموں کے لئے نمونہ عمل بن گئی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کوایرانی قوم کی پائداری اور استقامت کا ایک اہم نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران کے ایٹمی معاملے میں سامراجی طاقتوں نے اپنی تمام سیاسی، تبلیغاتی اور اقتصادی توانائیوں کو استعمال کیا اور ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کیں ، وسیع پیمانے پر تبلیغات اور دباؤ ڈالنے کی تلاش و کوشش کی تاکہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو نظر انداز کرکے ترک کردے لیکن اس مسئلہ کو 8 سال گزرنے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران سامراجی طاقتوں کے تمام شوم منصوبوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور ایٹمی توانائی کے شعبہ میں قابل توجہ پیشرفت حاصل کرنے کے ساتھ ثابت کردیا ہے کہ ایران دنیا کی بڑی طاقتوں کے مقابلے میں ارادوں کی جنگ میں سب سے زیادہ قوی اور طاقتور ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ 32 سال میں سامراجی طاقتوں کے ساتھ نبرد میں ان کے سامنے ہرگزتسلیم نہیں ہوئی بلکہ پیشرفت و ترقی  بھی حاصل کی جبکہ امریکہ کی سرپرستی میں سامراجی طاقتیں اس وقت گذشتہ سالوں کی نسبت کمزور ، ضعیف اور ناکامی سے دوچار ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں ، مسلح افواج میں جذبہ شوق و نشاط کی تقویت، مسلسل جد وجہد اور وسائل کے صحیح استفادہ کی سفارش  کرتے ہوئے فرمایا: مسلح افواج میں پیشرفت و ترقی کی سمت عمدہ اور اچھی حرکت کا آغاز ہوگیا ہے اور اس حرکت کو مزید سرعت اور تیزی کے ساتھ جاری اور ساری رہنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلح افواج کی قدرت میں روزبروز اضافہ، تعلیم و تربیت اور ٹریننگ میں ارتقا ، اور رزمی و دفاعی آمادگی کو مسلح افواج کے لئے لازمی قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوری نظام میں مسلح افواج عوام کا حصن و حصار اور قوی اور مضبوط قلعہ ہیں اور اس قلعہ کو ہمیشہ مضبوط اور مستحکم ہونا چاہیے۔

اس ملاقات میں مسلح افواج کی مشترکہ کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل ڈاکٹر فیروزآبادی نے گذشتہ سال میں مسلح افواج کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مسلح افواج اور اس سے متعلق اداروں کے نام جامع منصوبہ کا ابلاغ، مختلف شعبوں منجملہ فضائی اور دریائی شعبوں میں دفاعی اور رزمی آمادگی، اور سپاہ میں تحول اور پیشرفت گذشتہ سال کے اقدامات میں شامل ہیں۔

فیروز آبادی نے خلاقیت اور نوآوری پر تمرکز، فوجیوں کی علمی سطح میں ارتقا،اطلاعات اور ٹیکنالوجی کی سطح میں پیشرفت اور حکمت منصوبہ کی بنیاد پردفاعی صنعت میں تحول ، اور پانچویں منصوبہ کے اختتام تک بسیج مستضعفین ادارے کی تقویت کو موجودہ سال میں مسلح افواج کے اصلی منصوبوں میں شمار کیا۔

اس ملاقات کے اختتام میں حاضرین نے نماز ظہر و عصر رہبر معظم انقلاب اسلامی کی امامت میں ادا کی۔

News Code 1281287

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 9 =