بحرین میں ایران کی مداخلت کا الزام مضحکہ خیز ہے/ آل سعود توجہ دیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بحرینی حکومت کی طرف سے بحرین میں ایران کی مداخلت کے الزام کومضحکہ خیز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرینی حکومت نے اپنے نہتےعوام کے پرامن مظاہروں کو کچلنے اور بحرینی عوام کے قتل عام کے لئے دوسرے ملک کے فوجیوں کو دعوت دیکر اپنی سفاکی اور بربریت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے بحرینی حکومت کی طرف سے بحرین میں ایران کی مداخلت کے الزام کومضحکہ خیز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرینی حکومت نے اپنے نہتےعوام کے پرامن مظاہروں کو کچلنے اور بحرینی عوام کے قتل عام کے لئے دوسرے ملک کے فوجیوں کو دعوت  دیکر اپنی سفاکی اور بربریت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عرب ممالک کے مسلمانوں نے تیونس ، مصر، اردن، یمن لیبیا اور بحرین میں ایک انقلابی حرکت کا آغاز کیا ہے یہ حرکت حریت اور آزادی پر مبنی ہے مسلمان استقلال اور آزادی اور اسلام کی بالادستی کے خواہاں ہیں مسلمان سمجھ چکے ہیں کہ ان کے سرپر مسلط حکمرانوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کوئی ہمدردی نہیں پائی جاتی موجودہ عرب حکمراں وہی کرتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل ان سے چاہتے ہیں  امریکہ اپنے حامیوں کے ذریعہ عوامی تحریک کو منحرف کرنے اور اسے سرکوب اور کچلنے کی وسیع پیمانے پر کوشش کررہا ہے لیکن اسے ابھی تک اس میں کوئي کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دیگر عرب ممالک کی طرح بحرین کے عوام بھی ظالم و جابر حکومت کے سامنے استقامت اور پائداری کا مظاہرہ کررہے ہیں لوگ پہلے اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے لیکن اب بحرین کے عوام آل خلیفہ حکومت کے سقوط کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ لاریجانی نے کہا کہ بحرینی حکومت کو عوام کے مطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ سننا چاہیے تھا لیکن اس کے بدلے حکومت نے اپنے آہنی ہاتھ عوام کو دکھائے ہیں  اور بحرین کے عوام بھی بحرینی اور سعودی مشترکہ ظلم کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں لاریجانی نے کہا کہ ظالم وجابر حکام کو جان لینا چاہیے کہ ہمیشہ خون کی شمشیر پر فتح ہوئی ہے اور بحرین سمیت علاقہ کے تمام عرب مسلمانوں کو اللہ تعالی امریکی حامیوں کے مقابلے میں فتح نصیب کرےگا۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود نے بحرین میں مداخلت کرکے ایک بدعت کا آغاز کیا ہے اور سعودی حکومت کو امریکہ کے اشاروں پر حرکت نہیں کرنی چاہیے۔

News Code 1280024

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 2 =