لیبیا میں اسلحہ کی تقسیم پرنیٹو کے سربراہ، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے درمیان اختلاف

لیبیا میں اسلحہ کی تقسیم پرنیٹو کے سربراہاندرے فوگ راساور امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لیبیا میں اسلحہ کی تقسیم پرنیٹو کے سربراہاندرے فوگ راساور امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔اندرے راس موسن نے ایک بیان میں کہا کہ نیٹو کا کام لیبیا میں شہریوں کا دفاع کرنا ہے نہ کہ عوام کو ہتھیاراور تربیت فراہم کرنا۔ ادھرامریکہ کے دو اعلی ترین فوجی اہلکاروں نے کہا ہے کہ لیبیا میں فضائی کارروائی سے کرنل قذافی کی فوجی قوت کا چوتھائی حصہ تباہ ہو گیا ہے۔تیونس سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ قذافی کے کئی قریبی مشیرحکومت سے علیحدہ ہو کر تیونس پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ دیگر ممالک جانے کے لیے پروازوں کے انتظار میں ہیں۔

قذافی کے ان قریبی مشیروں میں تیل کے وزیر، انٹیلی جنس کے وزیر اور نائب وزیر خارجہ شامل ہیں۔ ان سے قبل لیبیا کے وزیر خارجہ موسی کوسا بدھ کو برطانیہ پہنچے تھے اور ان کے استعفی کا اعلان برطانوی حکام نے کیا تھا۔

News Code 1279652

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 13 =