علاقہ میں امریکہ کی شکست اور ناکامی کا سلسلہ جاری رہےگا

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید نوروز اور نئے سال (1390ہجری شمسی ) کے پہلے دن حرم مبارک حضرت علی بن موسی الرضا علیہ اسلام کے امام خمینی (رہ) شبستان اور دیگر ہالوں میں موجودلاکھوں زائرین اور مجاورین سے اپنے اہم خطاب میں فرمایا: علاقہ میں امریکہ کی شکست اور ناکامی کا سلسلہ جاری رہےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے  عید نوروز اور نئے سال (1390ہجری شمسی ) کے پہلے دن حرم مبارک حضرت علی بن موسی الرضا علیہ اسلام کے امام خمینی (رہ) شبستان  اور دیگر ہالوں میں موجودلاکھوں زائرین اور مجاورین سے اپنے اہم خطاب میں گذشتہ سال ( 1389 ہجری شمسی ) میں ملک کی مجموعی پیشرفت بالخصوص دگنی ہمت اور دگنی تلاش و کوشش و عمل کے نعرے کے مختلف شعبوں  منجملہ سائنس و ٹیکنالوجی میں پیشرفت ، سبسیڈی کو بامقصد بنانے اور مغربی ممالک کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کا ہمت سے مقابلہ کرنے اسی طرح موجودہ سال (1390) میں  اقتصادی جہاد کے نعرے کے مختلف پہلوؤں کی تشریح اور اس کےمعیاروں اور عظیم اقتصادی حرکت کے شرائط کا تفصیل سے جائزہ لیا اور آخر میں علاقہ میں جاری عوامی تحریکوں کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف اور امریکہ و مغربی ممالک کے مکر و فریب کے بارے میں تشریح فرمائی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب کے آغاز میں عید سعید نوروز کی آمد پر ایک بار پھر ایرانی قوم اور ان دیگر قوموں کو مبارک باد پیش کی جو عید نوروز کی تقریب کا اہتمام و احترام کرتی ہیں ، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ برس 1389 (ہجری شمسی ) میں ملک کی مجموعی ترقی و پیشرفت بالخصوص دگنی ہمت اور دگنے عمل کے نعرے کے عملی جامہ پہننے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم اور حکام نے گذشتہ برس اپنی بلند ہمتی اور جد و جہد کا حقیقی ثبوت پیش کیا اور مضاعف کام کرنےاوردگنا عمل انجام دینے میں کامیاب ہوئے البتہ ان کاموں کے نتائج طویل مدت میں ظاہر ہونگے لیکن حالیہ مہینوں اور مختصر مدت میں بھی مختلف شعبوں میں ان کے آثار قابل مشاہدہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں  پیشرفت کو دگنی ہمت و دگنی جد وجہد کا واضح نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: کچھ برس پہلے ملک میں جو ممتازعلمی  اور سائنسی حرکت شروع ہوئی، اس میں اب مزيد تیزی اور سرعت آگئی ہے اور دنیا کی اعلی ٹیکنالوجی اور پیشرفتہ علم کو حاصل کرنے کے لئے یہ حرکت روز افزوں پیشرفت کی جانب گامزن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حیاتیات پر مبنی ٹیکنالوجی ،ہوا و فضا، مائیکروالیکٹرانک ، جدید انرجی ، نانو ٹیکنالوجی، سٹیم سیلز ٹیکنالوجی، انفارمیشن اور ارتباطات پر مبنی ٹیکنالوجی، ، ایرانی طب ، اور میڈیکل پرمبنی ٹیکنالوجی ، کینسر کے غدد کے علاج کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی، ریڈيو ایزوٹوپ مشین اور سپر کمپیوٹر کو دنیا کے ممتاز علوم کا آئینہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی جوان سائنسدانوں کی علمی میدانوں میں حرکت تیزي کے ساتھ جاری ہے اور بین الاقوامی معتبر مراکز کی رپورٹ کے مطابق عالمی علمی حرکت کی نسبت ایران کی علمی حرکت کہیں زیادہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک میں علمی پیشرفت و سرعت کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی سائنسدانوں کی متوسط عمریں   35 برس ہے جو خود اعتمادی  کے جذبہ سے سرشار ہیں ،علم کی پیداوار کی تجارتی تشکیل اور قومی علمی پیداوار اس علمی حرکت کے ممتاز اور برجستہ نکات ہیں

 رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علمی تجارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر علمی پیداوار کو ٹیکنالوجی کی پیداوار میں تبدیل کیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی محصول کی تجارت کی راہیں ہموار اور تکمیل ہوجائيں گي، اور علمی پیداوار سےقومی ثروت کی پیداوارممکن بن جائےگی اور اس طرح یہ قدم قومی ضروریات کو پورا کرنے پر منتج ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سبسیڈی ،بامقصد بنانے کے اقدام کو دگنی ہمت اور دگنے عمل کے محقق ہونے کا ایک اور نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سبسیڈی کوبامقصد بنانے اور اس کے اجراء پر تمام اقتصادی ماہرین کا اتفاق ہے اس کام کو انجام دینے کی تمنا کئی برسوں سے تھی  اللہ تعالی کے لطف و فضل و کرم سے گذشتہ برس (1389) اس کا آغاز ہوگيا ہے اور اس کے اجراء و نفاذ میں حکومت اور عوام کے درمیان اچھا اور عمدہ تعاون پایا جاتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سبسیڈی کو با مقصد بنانے کے مثبت آثار کےطویل مدت میں آشکار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سبسیڈی با مقصد بنانے کے نتائج اسی مختصر مدت میں بھی قابل مشاہدہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سبسیڈی کو با مقصد بنانے کے اقدام کوسبسیڈی کی منصفانہ تقسیم اور سماجی انصاف کو عملی جامہ پہنانے کااہم قدم قراردیتے ہوئے فرمایا:اس موضوع کے دیگر اہداف میں انرجی مصرف کرنے میں مدیریت، درست مصرف میں حقیقی اصلاح اور ملک کے اقتصادی ڈھانچے کی اصلاح ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے  تیل کے علاوہ دیگر مصنوعات کی برآمدات، اور ملک کے بجٹ کی تیل سے وابستگی کو ختم کرنے کو گذشتہ برس ( 1389 ہجری شمسی) میں دگنی ہمت و دگنے عمل کے نعرے کو عملی جامہ پہنانےکا ایک اور نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کو ناکام بنانے کے لئے عوام اور حکام نے ہوشیاری کے ساتھ عمل کیا اور خوش قسمتی سے حکام کی فراواں تلاش و محنت کے نتیجے میں دشمن نے بہت سے میدانوں میں ہتھیار ڈال دیئے اور اب خود مغربی ممالک  اس بات کے معترف ہیں کہ اقتصادی پابندیوں کا اب کوئی اثر نہیں ہے۔

News Code 1277306

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 12 =